مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث بھارت کی بڑی ایئر لائنز نے فضائی ٹکٹوں پر اضافی فیول چارج عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے بعد آئندہ دنوں میں ہوائی سفر مزید مہنگا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:حادثات اور پاکستانی فضائی حدود کی بندش، ایئر انڈیا کو اربوں ڈالر نقصان کا سامنا
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کی بڑی ایئر لائنز نے ایوی ایشن فیول کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ٹکٹوں پر اضافی چارجز شامل کرنا شروع کر دیے ہیں۔ ان ایئر لائنز میں ایئر انڈیا، انڈیگو اور اکاسا ایئر شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق انڈیگو نے 14 مارچ سے نئی بکنگ پر مرحلہ وار فیول سرچارج عائد کیا ہے۔ اس کے تحت ملکی اور قریبی علاقائی پروازوں پر 425 بھارتی روپے اضافی وصول کیے جائیں گے۔ مغربی ایشیا کی پروازوں کے لیے 900 روپے جبکہ جنوب مشرقی ایشیا، چین اور افریقہ کی پروازوں کے لیے تقریباً 1800 روپے اضافی چارج لیا جائے گا۔ یورپ جانے والی پروازوں پر سب سے زیادہ تقریباً 2300 روپے فیول سرچارج عائد کیا گیا ہے۔

ایئر انڈیا اور ایئر انڈیا ایکسپریس نے بھی ملکی پروازوں کے ٹکٹوں پر تقریباً 399 روپے اضافی فیس شامل کر دی ہے۔ اسی طرح بین الاقوامی پروازوں پر مغربی ایشیا کے لیے تقریباً 10 ڈالر جبکہ افریقہ کے لیے 30 سے 90 ڈالر تک اضافی فیس وصول کی جائے گی۔ بتایا گیا ہے کہ 18 مارچ سے یورپ اور شمالی امریکا کی طویل فاصلے کی پروازوں پر یہ چارج مزید بڑھا دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی ایئر لائن میں تھپڑ کھانے والا مسافر لاپتا ہونے کے بعد کہاں سے بازیاب ہوا؟
دوسری جانب اکاسا ایئر نے بھی 15 مارچ سے ٹکٹوں پر فیول سرچارج نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس ایئر لائن کے مطابق پرواز کے دورانیے کے مطابق 199 سے 1300 بھارتی روپے تک اضافی فیس وصول کی جائے گی۔

فضائی صنعت سے وابستہ عالمی تنظیم کے مطابق بڑھتی ہوئی لاگت کے باعث دنیا بھر میں ہوائی کرایوں میں تقریباً 9 فیصد تک اضافے کا امکان ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں مزید بڑھیں تو فضائی سفر مزید مہنگا ہو سکتا ہے۔














