انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید کے وژن اور ریجنل پولیس آفیسر ڈیرہ اسماعیل خان سید اشفاق انور کی ہدایات کی روشنی میں ضلع جنوبی وزیرستان لوئر میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد طاہر شاہ وزیر کی نگرانی میں ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسل (ڈی آر سی) وانا فورم نے ایک اہم اور طویل عرصے سے جاری خاندانی اور زمینی تنازع اتوار کے روز کامیابی کے ساتھ حل کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں:ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی ملزم نامزد
پولیس حکام کے مطابق تحصیل وانا کے علاقے ڈبکوٹ سے تعلق رکھنے والے 2 خاندانوں، وحید خان اور گل منان خان (وزیر خوجل خیل قبائل) کے درمیان زمین کے تنازعے پر گزشتہ 54 برسوں سے اختلافات چلے آرہے تھے۔ یہ تنازع سنہ 1972 میں شروع ہوا اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ مسئلہ دونوں خاندانوں کے لیے ایک پیچیدہ اور حساس معاملہ بن چکا تھا۔
ضلعی پولیس کے مطابق اس دیرینہ تنازعے کو حل کرنے کے لیے فریقین کی باہمی رضامندی سے ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسل (ڈی آر سی) کے ممبران پر مشتمل ایک خصوصی پینل تشکیل دیا گیا۔ اس پینل میں علاقے کے معززین اور قبائلی مشران شامل تھے جن میں ملک صدیق آواس خیل، مرتضیٰ خوجل خیل، بہرام خان زلی خیل، میرزا خان برات خیل اور نور محمد خان کرمزخیل شامل تھے۔

ڈی آر سی کے اس پینل نے مقامی پولیس کے تعاون سے فریقین کے مؤقف کو تفصیل سے سنا اور تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ اس دوران متعدد نشستیں منعقد کی گئیں جن میں قبائلی روایات، مقامی رسم و رواج اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مسئلے کے قابلِ قبول حل کی کوشش کی گئی۔
پولیس ذرائع کے مطابق وانا سٹی پولیس اسٹیشن کی ٹیم نے اس عمل میں بھرپور کردار ادا کیا اور شب و روز محنت کے ذریعے دونوں فریقون کو مذاکرات کی میز پر لانے اور انہیں باہمی مفاہمت پر آمادہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ بالآخر ڈی آر سی کے قواعد و ضوابط کے تحت دونوں خاندانوں کے درمیان جاری یہ 54 سالہ خاندانی اور زمینی تنازعہ خوش اسلوبی سے حل کر لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا: تنخواہوں سے محروم لوکل گورنمنٹ ملازمین کا احتجاج: ’رمضان میں بھی تنخواہ نہیں ملی‘
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جنوبی وزیرستان لوئر محمد طاہر شاہ وزیر نے کہا کہ ضلع میں دیرینہ تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنا پولیس کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی آر سی کا فورم عوام کو فوری اور مؤثر انصاف فراہم کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہو رہا ہے۔ اس طویل عرصے سے زیر التوا خاندانی تنازع کو ڈی آر سی کے قواعد کے تحت خوش اسلوبی سے حل کرنا نہ صرف دونوں خاندانوں کے لیے خوش آئند ہے بلکہ یہ خیبر پختونخوا کی ڈی آر سی تاریخ میں ایک روشن مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
ڈی پی او نے مزید کہا کہ ضلعی پولیس ہمیشہ کوشش کرتی ہے کہ ایسے تنازعات کو عدالتوں کے بجائے باہمی افہام و تفہیم اور جرگہ سسٹم کے ذریعے حل کیا جائے تاکہ معاشرے میں امن، بھائی چارہ اور ہم آہنگی کو فروغ مل سکے۔
ادھر علاقے کے عمائدین اور سماجی شخصیات نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے ضلعی پولیس اور ڈی آر سی ممبران کی کاوشوں کو قابلِ تحسین قرار دیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف دیرینہ تنازعات کا خاتمہ ممکن ہوتا ہے بلکہ معاشرے میں امن و استحکام کو بھی تقویت ملتی ہے۔
عوامی اور سماجی حلقوں نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد طاہر شاہ وزیر اور ڈی آر سی ممبران کو اس اہم کامیابی پر زبردست خراجِ تحسین پیش کیا اور امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی اسی طرح کے اقدامات کے ذریعے علاقے میں دیرینہ تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کیا جاتا رہے گا۔














