امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیوبا کے حوالے سے سخت مؤقف سامنے آیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ امریکا نے کیوبا کی قیادت میں تبدیلی کو توانائی پابندی ختم کرنے سے مشروط کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی انتظامیہ نے کیوبا حکام کو پیغام دیا ہے کہ صدر میگوئل دیاز کینیل کا عہدہ چھوڑنا جاری مذاکرات کا اہم مقصد ہے اور اسی صورت میں امریکی تیل پابندی میں نرمی ممکن ہوسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیوبا کو تیل کی فراہمی روکنے کا امریکی منصوبہ، حکومت کو دباؤ میں لانے کی کوشش
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب شدید ایندھن بحران کے باعث کیوبا کا قومی بجلی نظام تقریباً منہدم ہوچکا ہے اور ملک کی تقریباً 11 ملین آبادی طویل لوڈشیڈنگ اور اندھیرے کا سامنا کررہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق وینزویلا میں سیاسی تبدیلیوں کے بعد امریکا نے کیوبا کو ایندھن کی فراہمی پر دباؤ مزید بڑھا دیا، جس سے توانائی بحران شدت اختیار کرگیا۔
وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کیوبا پر اپنے اثر و رسوخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ کیوبا کے حوالے سے بڑا کردار ادا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور موجودہ حالات میں امریکا کے پاس مختلف آپشنز موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیاں، کیوبا کے صدر نے امریکا کے ساتھ مذاکرات سے انکار کردیا
سفارتی ذرائع کے مطابق واشنگٹن ممکنہ عبوری سیاسی بندوبست پر بھی غور کررہا ہے تاکہ ملک میں استحکام برقرار رکھا جا سکے، تاہم امریکی مؤقف یہی ہے کہ توانائی پابندی کے خاتمے کے لیے موجودہ حکومت کی تبدیلی ضروری شرط ہے۔
دوسری جانب کیوبا حکومت نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحران کے حل کے لیے بات چیت جاری ہے، تاہم ملکی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔














