مشرقِ وسطیٰ میں سفارتکاری اور مذاکرات کے ذریعے امن کی کوششوں کے دوران پاکستان اور دیگر امن پسند ممالک کے خلاف مبینہ منظم پروپیگنڈا مہم کے حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ مختلف عالمی رپورٹس، بیانات اور میڈیا دعوؤں کو جوڑ کر بعض حلقے اسے اسرائیل نواز عناصر کی جانب سے امن عمل کو متاثر کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
جس روز امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے نور خان ایئر بیس پر ایرانی طیارے موجود تھے۔ اسی روز اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے سی بی ایس کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ وہ سوشل میڈیا پر اسرائیل مخالف بیانیہ بنانے کے لیے بوٹ فارمز استعمال کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:نیتن یاہو کو شکست دینے کے لیے اسرائیل کے 2 سابق وزرائے اعظم کا اتحاد بنانے کا اعلان
بعد ازاں اسرائیلی وزیراعظم کے قریبی سمجھے جانے والے امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے سینیٹ کی سماعت کے دوران پاکستان کے ثالثی کردار پر سوالات اٹھائے۔ اس کے کچھ دیر بعد ایک نامعلوم صحافی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے سوال کیا کہ کیا وہ پاکستان کے ثالثی کردار پر نظرثانی کر رہے ہیں، جس کی ویڈیو معروف کلپ جرنلسٹ ایرون روپر نے شیئر کی۔
اسی دوران خبر رساں ادارے رائٹرز نے رپورٹ دی کہ سعودی عرب نے مشرقِ وسطیٰ جنگ کے دوران ایران کے خلاف کئی خفیہ حملے کیے، تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی واضح ثبوت سامنے نہیں آیا۔
ان تمام واقعات کے بعد بعض حلقے سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا یہ سب محض اتفاق ہے یا پھر اسرائیل نواز جنگ پسند عناصر کی جانب سے منظم بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے تاکہ خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام پیدا کیا جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق سی بی ایس اس وقت اسکائی ڈانس کارپوریشن کے زیر انتظام ہے، جو پیراماؤنٹ اور اسکائی ڈانس انضمام کے بعد قائم ہوئی، جبکہ ایلیسن خاندان اور ریڈ برڈ کیپیٹل اس میں اہم کردار رکھتے ہیں۔

ڈیوڈ ایلیسن، جو لیری ایلیسن کے بیٹے ہیں، 2025 میں سی بی ایس کی مالک کمپنی خریدنے کے بعد ادارے کے چیف ایگزیکٹو اور انتظامی کنٹرولر بنے، جبکہ لیری ایلیسن نے اس معاہدے کی مالی معاونت کی۔ لیری ایلیسن کے اسرائیل اور اسرائیلی فوج کے ساتھ تعلقات اور حمایت کو مختلف رپورٹس میں نمایاں طور پر بیان کیا جاتا رہا ہے۔
2017 میں لیری ایلیسن نے ’فرینڈز آف اسرائیل ڈیفنس فورسز‘ کو 16.6 ملین ڈالر عطیہ کیے تھے، جو اس ادارے کی تاریخ کا اس وقت کا سب سے بڑا عطیہ قرار دیا گیا تھا۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ لیری ایلیسن کے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ قریبی ذاتی تعلقات ہیں۔ انہوں نے 2021 میں نیتن یاہو کو اوریکل میں بورڈ پوزیشن کی پیشکش کی تھی اور اپنے نجی جزیرے لانائی میں ان کی میزبانی بھی کی۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت اسرائیل کا سگا بھائی، بھارتی چینلز پر اسرائیل سے غزہ اور لبنان پر حملوں کا مطالبہ
لیری ایلیسن نے اسرائیل میں ذاتی سرمایہ کاری اور کاروباری توسیع کے ذریعے بھی نمایاں مفادات قائم کیے۔ 1999 میں انہوں نے اسرائیلی بائیوٹیک کمپنی کیو بی آئی انٹرپرائزز میں کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جبکہ اوریکل نے بھی اسرائیل میں تحقیقاتی مراکز اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصول کے ذریعے اپنی موجودگی بڑھائی۔
2019 میں لیری ایلیسن نے مشرقی یروشلم میں ایک آثارِ قدیمہ منصوبے کے لیے مالی معاونت بھی کی، جس پر فلسطینی حلقوں اور بعض ماہرین آثار قدیمہ نے تنقید کی تھی۔
بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دنیا کے بڑے بوٹ فارمز رکھنے کے الزامات کا سامنا کرنے والے حلقے اب پاکستان جیسے ممالک پر سوشل میڈیا مہمات چلانے کے الزامات لگا رہے ہیں، جبکہ پاکستان نے کبھی سوشل میڈیا کو منظم انداز میں استعمال کرنے کی پالیسی اختیار نہیں کی۔
اسی طرح رائٹرز کی اس رپورٹ پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جس میں دعویٰ کیا گیا کہ سعودی عرب نے ایران پر خفیہ حملے کیے۔ ناقدین کے مطابق یہ دعویٰ بھی بغیر شواہد کے سامنے لایا گیا، جیسا کہ پاکستان کے حوالے سے ایرانی طیاروں کو ’فضائی تحفظ‘ دینے کی خبریں چلائی گئیں۔

مبصرین کے مطابق یہ تمام بیانیے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ریاض، اسلام آباد اور انقرہ کے درمیان سفارتی روابط اور ثالثی کی کوششوں کو اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق جب امن کی کوششیں کامیاب ہوتی ہیں تو خطے میں کشیدگی برقرار رکھنے کے خواہشمند حلقے متحرک ہو جاتے ہیں۔
بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور دیگر ممالک کی جانب سے خطے میں امن اور استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے اسرائیل نواز عناصر کی جانب سے منظم مہم چلائی جا رہی ہے، جبکہ ان کا اصل مقصد خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام برقرار رکھنا ہے۔














