کانز فلم فیسٹیول 2026 میں بالی ووڈ اداکارہ عالیہ بھٹ نے بھارتی فلمی صنعت پر سوال اٹھا دیا
عالیہ بھٹ کا کہنا تھا کہ فلموں کو اب بھی زیادہ تر مرد ناظرین کو مدنظر رکھ کر بنایا جاتا ہے، جس پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے موجودہ رجحان پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی فلموں کی کامیابی کو صنفی زاویے سے دیکھا جاتا ہے حالانکہ دنیا بھر میں ایسی متعدد فلمیں بڑی کامیابیاں حاصل کر چکی ہیں جن کی بڑی ناظرین خواتین تھیں۔ انہوں نے بطور مثال ’باربی‘، ’وِدرنگ ہائٹس‘ اور ’دی ڈیول وئیرز پراڈا‘ کا ذکر کیا۔
یہ بھی پڑھیں: عالیہ بھٹ اپنی ننھی سی بیٹی کے لیے ای میل کیوں لکھتی ہیں؟
عالیہ بھٹ کے مطابق بھارتی فلمی صنعت میں اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ چونکہ باکس آفس کا بڑا حصہ مرد ناظرین پر مشتمل ہے اس لیے فلم سازی بھی اسی مطابق ہونی چاہیے۔ انہوں نے اس سوچ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر مواد صرف مردوں کو مدنظر رکھ کر بنایا جائے تو خواتین ناظرین کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔
اداکارہ نے زور دیا کہ فلم سازی کسی ایک صنف تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ایسی کہانیاں تخلیق کی جانی چاہئیں جو سب ناظرین کے لیے یکساں طور پر قابلِ رسائی ہوں۔ ان کے مطابق کہانی کو مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے نہ کہ صنفی تقسیم کو۔
یہ بھی پڑھیں: رنبیر کپور سے شادی کا فیصلہ کیوں کیا، عالیہ بھٹ نے بتا دیا
اپنے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے عالیہ بھٹ نے کانز فلم فیسٹیول میں اپنی پہلی شرکت کو ’ہنگامہ خیز‘ قرار دیا اور کہا کہ اس سال وہ زیادہ پرسکون انداز میں فیسٹیول سے لطف اندوز ہو رہی ہیں۔














