جنوبی کوریا میں ایک افسوسناک واقعے کے بعد فوج نے ملک بھر میں آتشیں اسلحے سے متعلق بعض تربیتی مشقیں معطل کر دی ہیں۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب جنوبی شہر ڈائیگو میں ایک کھیل کے میدان میں موجود ایک کم عمر بچے کی گردن میں مبینہ طور پر قریبی شوٹنگ رینج سے آنے والی گولی لگ گئی۔
حکام کے مطابق واقعہ پیر کے روز پیش آیا جب بچہ کھیل میں مصروف تھا اور قریب ہی فوجی فائرنگ کی مشق جاری تھی۔ گولی لگنے کے فورا بعد بچے کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں بروقت طنی طبی امداد فراہم کی گئی اور خوش قسمتی سے اس کی حالت خطرے سے باہر رہی، بعد ازاں اسے ڈسچارج کردیا گیا۔
جنوبی کوریا کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ بی سوک جن نے منگل کو پریس بریفنگ میں بتایا کہ واقعے کے بعد احتیاطی اقدام کے طور پر انفرادی آتشیں ہتھیاروں کی فائرنگ کی تمام مشقیں عارضی طور پر روک دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
یونہاپ نیوز ایجنسی کے مطابق ایک فوجی اہلکار نے بتایا کہ اسپتال میں علاج کے دوران بچے کے زخم سے گولی کا ٹکڑا بھی برآمد ہوا، جس سے شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ گولی قریبی شوٹنگ رینج سے آئی تھی۔ حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ حفاظتی اقدامات میں کہاں کمی رہ گئی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی جنوبی کوریا میں فوجی مشقوں کے دوران ایسے حادثات پیش آ چکے ہیں۔ 2020 میں ایک گولف کیڈی آوارہ گولی لگنے سے زخمی ہو گئی تھی جبکہ گزشتہ سال مشترکہ فوجی مشق کے دوران غلطی سے ایک گاؤں پر بم گرنے سے تقریباً 30 افراد زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد حفاظتی اقدامات پر سوالات اٹھے تھے۔












