’عید بہ وئی، گید بہ وئی
ساگی مانی ساگ ساں‘
جب ہم بچے ہوتے تھے تو عید کی آمد کی خوشی مہینوں پہلے منانا شروع کر دیتے تھے۔ یوں سمجھیں کہ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے موقع ہی سے عید الفطر کا انتظار بے چینی سے شروع ہو جاتا تھا۔ سردیوں کے موسم میں آنے والی عید ہے تو کپڑے ٹیٹرون کے ہونگے یا باریک اور رنگین عمودی لکیروں والے کیرولین کے؟ اور کس رنگ کے ہوں گے؟۔ اگر عید گرمیوں میں آرہی ہوتی تھی تو یہ طے کرنا پڑتا تھا کہ کُرتہ سفید ململ کا لیا جائے یا آف وائٹ؟، شلوار تو عموماً سفید لٹھے ہی کی ہوتی تھی۔ جس کپڑے کو اب ’صاحب لوگ‘ بڑے فخر سے کاٹن کہنے لگے ہیں، وہ آج سے نصف صدی پہلے غریبوں کا سستا اور عمومی پہناوا ہوتا تھا جو سندھ میں ’ہِرکھ‘ کہلاتا تھا اور دوسری زبانوں میں وہ لٹھا تھا۔ اس کے بعد زمانہ آگیا ’سمر‘ اور ’کے ٹی‘کے کپڑے کا، جو درمیانے طبقے کے لوگ پہننے لگے تھے اور یہ دور ذوالفقار علی بھٹو کا تھا، جنہوں نے خود شلوار قمیض کو رواج دے کر شاہی لباس بنا دیا تھا اور بڑے لوگ اب اس ملبوس میں فائیو اسٹار ہوٹلوں میں بھی جانے لگے تھے۔ ورنہ پہلے ایسے ’وی آئی پی‘ مقامات تک رسائی، تھری پیس یا انگلش لباس کے بغیر نہ ہوتی تھی۔ اب زمانہ بدلا تو عید کے موقع پر درمیانے طبقے کے بچوں کو پینٹ شرٹ میں دیکھا جانے لگا اور بڑے لوگ ڈبل گھوڑا چینی بوسکی کی نرم اور شاندار شلوار قمیض میں دکھائی دینے لگے۔ ایسے مواقع پر دبنگ سے دبنگ مولوی بھی عید نماز پر بوسکی پہن کر آنے والے امیر امراء کو ٹوکنے کی ہمّت نہیں کر پاتا تھا:
’سائیں! بوسکی پہن کر نماز نہیں ہوتی‘۔
ہمارے بابا دادو ضلع کے بہترین ٹیلر ماسٹر مانے جاتے تھے جو قیام پاکستان سے قبل بمبئی میں اور اس کے بعد کراچی صدر میں فیشن کے جدید اور مہنگے مرکز ’ایلفی‘ پر کئی معروف اور مہنگی ٹیلرنگ شاپس پر کام کر چکے تھے۔ اس لیے علاقے کے سیاسی اور سماجی رہنماؤں کے علاوہ زمیندار طبقہ بھی انہی سے کپڑے سلوانا پسند کرتا تھا۔ فصل اترنے کی سیزن میں زمیندار لوگ بابا سے کوٹ (جی، صرف کوٹ) ضرور سلواتے تھے۔ یہ اس زمانے کا ’اسٹیٹس سمبل‘ ہوتا تھا۔ وہ لوگ عید، شادی بیاہ کے مواقع پر یا پھر جب وزیروں یا خود سے بھی بڑے کسی آدمی سے ملاقات کرنے کراچی، حیدر آباد جاتے تھے تو بوسکی یا ہلکے رنگوں کے ’کے ٹی‘ (جاپانی کپڑا کورابو ٹیٹرون4000) کے جوڑے پر گہرے رنگوں والا کوٹ پہن کر نکلتے تھے۔ ایسا ایک کوٹ ہاتھ سے تیارکرنے میں بابا کو ہفتہ 10 دن لگ جاتے تھے کیوں کہ سخت سلیٹی بکرم کی تہیں، ہاتھ والی سوئی سے آپس میں سینے اور مختلف حصوں میں روئی کی تہیں (پیڈنگ) لگانے میں بہت وقت صرف ہوتا تھا اور دِقّت بھی بہت ہوتی تھی۔ اب تو سب خام مال ریڈی میڈ دستیاب ہے، اس لیے درزی لوگ ایک ہی دن میں تھری پیس تیار کر کے گاہک کو پکڑا دیتے ہیں۔
خیر، تذکرہ تھا نصف صدی پہلے کی عید کا، جو ہمارے دیہی سندھ میں بچوں کے لیے خوشی، فخر اور انبساط کا ایسا موقع ہوتی تھی، جس پر نئے کپڑے، نئے جوتے، نیا رومال یا ریشمی مفلر اور لال، پیلے یا سبز رنگ کے پلاسٹک کے ’شیشوں‘ والی سستی، سادہ عینک میسر آتی تھی، جس سے ساری دنیا ’یک رنگی‘ نظر آتی تھی۔ اور ہاں! عید کی ایک بڑی ’اٹریکشن‘ تھی عیدی۔ یہ خرچی اپنے گھر سے تو جو ملتی تھی سو ملتی، دیگر گھروں میں عید کے پکوان دینے جانے پر بھی عیدی ملا کرتی، وہ جمع ہو کر بہت زیادہ ہوجاتی تھی۔ اس لیے بھائیوں بہنوں میں اس بات پر جھگڑا ہوا کرتا تھا کہ فلاں فلاں گھر میں ’عید دینے‘ یعنی پکوان پہنچانے ہم جائیں گے۔ اس جھگڑے کی وجہ یہ ہوا کرتی تھی کہ ان منتخب گھروں کے ساتھ ہمارے کنبے کے تعلقات بہت مثالی ہوتے تھے، اس لیے ان کے ہاں جانے پر 1-2 روپے سے کم عیدی نہیں ملتی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:درگاہ گاجی شاہ اور جن نکالنے کے کرتب
یوں عید کے دن عزیزوں رشتہ داروں کے گھروں کے خواہ مخواہ پھیرے بھی لگتے کہ ہوسکتا ہے کہ عیدی مل جائے۔ عیدی مل جانے کے بعد سب بچے قصبے کے ’شاہی بازار‘ پر حملہ آور ہوتے، جہاں مٹھائی کے دکانداروں نے عید کے موقع کے لیے خصوصی مٹھائیاں کھویا، میسو، توشے، میٹھی ٹکیاں، نمک پارے اور 3-4 رنگوں کی جلیبی خاص اسٹائل میں سجا کر رکھی ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ ’پشم‘ والے یعنی گڑیا کے بال بنا کر بیچنے والے، قلفی ملائی والی ریڑھی، گھریلو ساختہ پیلی آئس کریم والے ٹھیلے بھی جابجا عید کمانے کے لیے بازار میں کھڑے نظر آتے تھے۔ لیکن ہم بچوں کی اصل توجہ، بازار کے فرش پر چادر یا گتے کی شیٹیں بچھا کر سجائی گئی ان ’دکانوں‘پر ہوتی تھی، جہاں پلاسٹک، ٹِن اور دوسرے مٹیریل سے بنے کھلونے سجے ہوئے ہوتے تھے۔ یہ کھلونے عید کے خصوصی دن کے لیے حیدر آباد یا سکھر سے لائے جاتے تھے اور یہ دکانیں اور خود دکاندار بھی عارضی ہوا کرتے تھے جو عید کمانے کی غرض سے یہ کام کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے پہلا کھلونا جو اپنی عیدی سے لیا تھا ،وہ ’کافور‘ یا بیکلائٹ سے بنی ہوئی سلائی مشین تھی۔ یہ خرید کر جب میں گھر لے آیا تھا کہ بابا کو دکھاؤں جو خود بھی درزی ہیں، تو بابا تو رمضان المبارک کا پورا مہینہ جاگ کر دکان چلانے کی تھکن سے نڈھال سو رہے تھے مگر اماں نے جو میرے پاس وہ ننھی سی سلائی مشین دیکھی تو بہت ہنسی تھیں کہ تم بھی باپ کی طرح درزی بنوگے کیا؟۔ میں نے کوئی جواب نہیں دیا تھا اور اس مشین کو اپنے چھوٹے سے صندوق میں چھپا کر رکھ دیا تھا، جس میں بابا کے دلائے ہوئے بہت سارے کھلونے بھرے ہوئے تھے۔ اس طرح جب عید کا دن گزر جاتا تھا تو ہم بچے اُسی پرانے حال میں واپس آ جاتے تھے۔ یعنی سوتی کپڑے کی چڈی اور بنیان پہن کر گلی میں کھیلنے نکل آتے تھے۔ عید کے بعد والے ہمارے چند دن، عید ہی کی یاد میں یہ عوامی بول گاتے گزرتے تھے:
’عید بہ وئی، گید بہ وئی ۔۔۔ ساگی مانی ساگ ساں‘
یعنی عید گزر گئی، باسی عید بھی گئی۔اب پہلے کی طرح وہی روکھی روٹی ساگ سے کھاتے رہیں گے۔
’پائی تے ٹَکو۔۔۔پائی تے ٹَکو ‘
عید پر گوٹھوں میں ایسے مشغلے اور تماشے پیش کرنے والے بھی آنکلتے تھے، جنہیں آج ہم لوگ ’ڈبل شاہوں‘ کے ناموں سے جانتے ہیں۔ یہ مداری اور جواری قبیل کے نوجوان ہوتے تھے جو اس زمانے کا تنبولہ یا گول چکرا لے آتے تھے، جس پر چھَپے ہوئے مختلف خانوں پر تماشبین ریزگاری اور چھوٹے نوٹ رکھتے تھے۔ ’حاملِ چکرا‘ سب خانوں میں پیسے رکھے جانے کے بعد، درمیان میں بیئرنگ پر اٹکی سوئی ٹائپ چیز کو زور سے گھما دیتا تھا۔ اب سب تماشائیوں کی نظریں بیئرنگ سے منسلک گھومتی ہوئی باریک راڈ کے ساتھ ساتھ گھوم رہی ہیں۔ جہاں آکر وہ سوئی رُکتی، وہاں کے خانے میں پیسے رکھنے والا جیت جاتا اور اس کے داؤ پر لگائے ہوئے پیسے، ڈبل کر کے اسے دے دیے جاتے۔ اور بقیہ درجن بھر لوگ جو اپنے پیسے ہار جاتے تھے، ان کے چہرے اتر جاتے تھے۔ یہ ذرا بڑے اور جوان جہان لڑکوں اور بندوں کا کھیل ہوتا تھا۔ اگر ہم چھوٹے لڑکے بالے اس دائرے میں گھسنے کی کوشش کرتے تھے تو اوّل تو جو چاچا جی یہ سب چکر چلا رہے ہوتے تھے، وہی ہمیں ڈانٹ کر باہر نکال دیتے تھے، ورنہ وہاں کھڑا کوئی بھی تماشائی، اطمینان سے ہمّا شمّا کے کان پکڑ کر نکال باہر کرتا تھا۔ یوں اچھی خاصی ’بیستی خراب‘ ہوجاتی تھی۔
اور ہماری یہ عزّت افزائی ہوتے دیکھنے والے ہمجولی دور سے کھی کھی کھی کرتے مذاق اڑاتے تھے۔
ایسے ڈبل شاہوں سے چھوٹے ’ٹِرپل شاہ‘ گلی محلے کے لڑکے ہوتے تھے۔ ان کو ٹِرپل شاہ کا خطابِ جلیلہ اس لیے دینا پڑتا ہے کہ وہ جیتنے والے کوداؤ پر لگائی رقم 3 گنا کر کے واپس دیتے تھے۔ ان کا طریقہِ واردات بہت صاف ستھرا ہوتا تھا، جس میں ’کشٹومر‘ کو اپنے ہاتھ کے اسکلز ہی جتوا سکتے تھے۔ یہ کھیل، عام بولی میں ’پائی تے ٹَکو‘ کہلاتا تھا۔ جس کا سادہ مطلب یہ ہوتا تھا کہ ایک پائی(ٹیڈی پیسے) کے بدلے ایک ٹَکا یعنی 3 پائیاں یا 3 پیسے دیے جائیں گے۔ اس کے لیے ہوتا یہ تھا کہ کھیل کا مرکزی کردار، گھر سے پانی کی ایک بالٹی بھر کر لے آتا تھا اور گلی کے چوک پر اپنے سامنے بالٹی رکھ کر بیٹھ جاتا تھا۔ بالٹی کے تلے میں کسی بوتل کا ڈھکنا سیدھا کر کے رکھا ہوتا تھا۔ یہ’ ٹول آف ٹریڈ‘ تیار کر کے، وہ لڑکا آواز لگانا شروع کر دیتا تھا:
’پائی تے ٹَکو۔۔۔پائی تے ٹَکو۔۔۔ اچو، اچو؛ پنہنجی قسمت آزمایو۔کھٹیندا بھاگن وارا ۔۔۔پائی تے ٹَکو۔۔۔پائی تے ٹَکو‘۔
یہ بھی پڑھیں:موکھی متارا: کراچی کی ایک تاریخی داستان
طریقہ اور تفصیل اس اجمال کی یہ تھی کہ ایک پیسے کے 3 پیسے بنانے کے لالچ میں مبتلا ہونے والا بچہ، پانی سے بھری بالٹی کے اوپر ہاتھ کر کے انگوٹھے اور پہلی انگلی میں ایک پائی، 2 پائی یا 5 پیسے کا کوئی سکہ پھنسا کے کھڑا ہوتا اور بالٹی کے تلے میں پڑے ڈھکن کا ’نشانہ‘ باندھ کر اسے اندر پھینک دیتا تھا۔ اگر اس کا نشانہ ٹھیک بیٹھتا اور سکہ ڈھکن کے اندر چلا جاتا تو وہ جیت جاتا اور اسے اپنے سکے سے 3 گنا زیادہ مالیت کے سکے مل جاتے تھے۔ مگر جیت کا ایسا واقعہ کم ہی ہوتا تھا کیوں کہ بالٹی والا چالاک لڑکا، کسی کے سکہ پھینکتے ہی، چوری چھپے بالٹی کو ہلکا سا چھو دیتا تھا۔ اس کی اس حرکت سے پانی میں لہریں اٹھتی تھی، جن کے باعث سکہ ڈھکن میں گرنے کے بجائے، اس کے اِدھر اُدھر،بالٹی کے تلے میں جا گرتا تھا۔ یوں سکہ پھینکے والا ہار جاتا تھا۔عید کے دن ’پائی تے ٹَکو‘ کھلانے والا وہ لڑکا 10-12 روپے کما لیتا تھا۔
ننھیال میں ایک شرمسار سی عید
ہماری ایک عید جو ننھیال میں گزری ، وہ ایسی یادگار تھی کہ آج بھی جب اس کی یاد آتی ہے تو ہنسی چھوٹ جاتی ہے۔ بقول پروین شاکر: ’بات تو سچا ہے مگر بات رسوائی کی‘۔ ہمارے نانا کے چھوٹے بھائی محمد آچر تھہیم اے ایس آئی ہوتے تھے، جنھیں علاقے میں صوبیدار صاحب کہا جاتا تھا۔ عید کے دن بھی ان کی ڈیوٹی ہوا کرتی تھی کیوں کہ اس زمانے میں بھی تھانوں پر آج کی طرح بہت زیادہ نفری نہیں ہوتی تھی۔ایک عید پر جب ہم بھی ان کے ہاں آئے ہوئے تھے، انہوں نے اپنے 3 بیٹوں کو تیار کروایا اور ہماری امی کو کہہ کے مجھے بھی ساتھ لے لیا کہ چلو آپ کو ’شہر‘لے چلتے ہیں۔ اس زمانے میں دادو کا سٹی ایریا، ہمارے گوٹھ مرکھ پور سے کوئی 2 کلومیٹر دور تھا۔ عید کے سارے کھیل تماشے اور رونقیں اس سٹی ایریا ہی میں لگتی تھیں۔اس عید کے لیے مجھے بابا نے خاص طور پر چمکیلے ریشمی کپڑے کی پینٹ شرٹ سی کر پہنائی تھی، اس لیے میں اپنے ماموؤں میں ذرا ’وی آئی پی‘ فیل کر رہا تھا اور وہ بھی مجھے رشک کی نظروں سے دیکھتے ہوئے چل رہے تھے۔ خیر، ہم خراماں خراماں دادو شہر کے پولیس ہیڈ کوارٹر کے گراؤنڈ آپہنچے، جہاں چوڈیل یعنی اوپر نیچے گھومنے والے پنگھوڑوں والا جھولا اور دیگر تماشے پھیلے ہوئے تھے۔ نانا اپنے یونیفارم میں ملبوس تھے اور پھر مقام بھی پولیس ہیڈ کوارٹر کا تھا۔ اس لیے ہم سب بچے ’وی وی آئی پیز‘ ہو گئے تھے۔ بڑے ماموں خالد اور ان سے چھوٹے حامد کی فرمائش پر نانا نے چوڈیل والے سے کہا کہ میرے بچوں کو بٹھاؤ۔ چوڈیل والے غریب بندے کے لیے یہ بہت بڑی عزّت افزائی تھی کہ علاقے کا صوبیدار صاحب اس سے مخاطب ہو کر اپنے بچوں کو بٹھانے کے لیے کہہ رہا ہے۔ اس بے چارے نے پہلے تو اپنی پگڑی اتار کر کھولی اور اسے جھٹک کر، 2 پنگھوڑے صاف کیے اور پھر ہم میں سے ہر ایک کو ’بسم اللہ بابا!۔۔۔ بسم اللہ بابا سائیں!‘ کہہ کر ا ن صاف شدہ پنگھوڑوں میں بٹھا دیا۔ دوسرے 2 پنگھوڑوں میں ’عام‘ بچے تھے اور ان کے ساتھ 2 خواجہ سرا بھی چڑھے ہوئے تھے۔ وہ شاید پہلی مرتبہ بیٹھے تھے ،اس لیے تجسس یا ’اندیشہ ہائے دور دراز‘ کے باعث ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے بیٹھے تھے۔ بہرحال جھولے والے بندے نے زور لگا کر چوڈیل کو چلانا شروع کیا۔ہم بچے مسّرت اور لطف سے چیخنے اور ہنسنے لگے مگر ایک خواجہ سرا نے خوف سے چِلانا شروع کر دیا۔ ہم اسے ڈرتے دیکھ کر اور ہنسنے لگے اور چیخ چیخ کر جھولے والے کو کہنے لگے کہ اور تیز چلاؤ۔ ظاہر ہے کہ اس بیچارے کو صوبیدار صاحب کے بچوں کا کہا ماننا تھا۔ اس نے تیز چلانا شروع کیا۔ اب تو بیچارے خواجہ سرا کی حالت خراب ہوگئی اور وہ رونے لگ گیا۔ ہم اپنے انجوائمنٹ میں تھے کہ محسوس ہوا کہ بارش ہو رہی ہے۔ مگر اوپر دیکھا تو آسمان پر نہ بادل نہ بادل کی ذات!۔ پھر بے موسم کی برسات کیسے ہمیں بھگو رہی تھی؟۔ اتنے میں ماموں قربان، جو ہم سب میں تیز طرار تھے، انہوں نے زور زور سے چلاّنا شروع کردیا:
’کھدڑے جو وَہی ویو!‘ یعنی (ہیجڑے کا بہہ گیا)
یہ بات جو جھولے والے نے سنی تو ڈر کے مارے اس کا سانولا چہرہ سیاہ ہوگیا۔ بات ہی ایسی تھی۔ صوبیدار صاحب کے بچوں کو ایک خواجہ سرا نے شرابور کر دیا تھا۔ اب اس نے جھولہ روک دیا۔ ہم نیچے تھے اور خواجہ سراؤں والا پنگھوڑا ہمارے عین اوپر تھا۔اور اب بھی ’بوندا باندی‘جاری تھی۔ نانا غصے کے مارے سرکاری ریوالور ہولسٹر سے نکال کر کھڑے ہوگئے کہ آج ان خواجہ سراؤں کا خون کردوں گا۔ صورتحال بہت نازک ہو گئی تھی۔ ہم سب بھی سہم گئے کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟۔ اتنے میں نانا کے کوئی دوست وہاں آ نکلے۔ جنہوں نے نانا کو ٹھنڈا کر کے حالات قابو میں کیے۔ جھولے والا غریب ہمیں اتار کر قریبی نلکے پر لے آیا، جہاں اس نے نلکا گیڑ کر کر ہم سب کو نہلایا۔ نانا اس کے سر پر کھڑے احکامات دیتے رہے کہ اور پانی چلاؤ، تیز چلاؤ۔ اُدھر نانا کے دوست نے موقع دیکھ کر دونوں خواجہ سراؤں کو بھگا دیا کہ جان پیاری ہے تو شکل گم کرو۔ خیر ہم کپڑوں سمیت نہا کر، گھر واپس آگئے۔ جہاں سے شام کو دوسرے کپڑے پہنوا کر ہمارے نانا ہمیں دادو کے اکلوتے سنیما تاج محل میں فلم دکھانے لے گئے۔ وہاں گیلری کلاس سے بھی اوپر والی ’باکس کلاس‘ میں بیٹھ کر ہم نے لالہ سدھیر کی پنجابی فلم ’انتقام‘ دیکھی تھی جو اسی دن پورے ملک میں ریلیز ہوئی تھی۔ اس طرح ننھیال میں ایک یادگار عید کا اختتام ہوا۔جس کی یاد آج بھی آتی ہے تو ہنسی بھی آتی ہے اور دل دکھ میں بھی ڈوب جاتا ہے کہ اب نہ تو نانا رہے اور نہ ہی ان کے وہ 3 بیٹے اس دنیا میں ہیں جو مجھے بھانجے سے زیادہ اپنا دوست بنا کر رکھتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:زمین پر زندگی 2050 میں، ربع صدی بعد ہمارے شہر کیسے ہوں گے؟
کراچی کی عید اور وَن ڈِش پارٹی
کراچی میں میری مستقل آمد 1984 ء میں ہوئی، جب میں اپنے قصبے سیتاروڈ کے ضلعی ہیڈ کوارٹرز دادو سے انٹر کامرس یا ڈی کام کر چکا تھا اورمزید تعلیم کے لیے روشنیوں کے اس شہر چلا آیا تھا۔ اس کے لیے یہاں موجود بابا کے ایک مرحوم دوست کے نوجوان بیٹوں نے مجھے اصرار کیا تھا کہ گاؤں میں تمھارا کوئی مستقبل نہیں، کراچی آؤ گے تو کچھ نہ کچھ بن سکو گے۔ یہ غوری خاندان اردو اسپیکنگ ہے، جو 30-40 سال پہلے ہمارے ساتھ ہی گاؤں میں آباد تھا۔ پھر جب بابا کے دوست اور ان کی اہلیہ کا انتقال ہوگیا تو ان کے 2 نوجوان بیٹے کراچی آگئے اور چھوٹا بیٹا اور اس سے بھی چھوٹی بیٹی ہمارے گھر سیتاروڈ ہی میں ہمارے پاس رہے تھے۔ بعد میں وہ بھی بڑے ہو کر اپنے بڑے بھائیوں اور بھابیوں کے ہاں کراچی آگئے تھے۔ جب میں یہاں آیا تو پہلے چند ماہ کامرس گریجویشن کے داخلے اور ساتھ ہی پارٹ ٹائم روزگار کی تلاش میں گزر گئے۔ اور یہ عرصہ میں اپنے انہی محسنوں کے گھر میں رہا تھا۔ تب کراچی پر لسانی تنظیم مسلط نہیں ہوئی تھی اور شہر کا ہر علاقہ اور محلہ ایسے محّبت کرنے والے لوگوں سے آباد تھا کہ سب گھروں کے دروازے، دن رات ایک دوسرے کے لیے کھلے رہتے تھے۔حالاںکہ وہاں اردو، پنجابی، سندھی ،بلوچی اور پشتو بولنے والے سبھی لوگ آباد تھے مگر یوں لگتا تھا جیسے عزیزوں کا ایک دیہاتی قسم کا ’ویڑھا‘ ہو، جہاں سب کی خوشی غمی سانجھی تھی۔ یہ شاہ فیصل کالونی کا علاقہ گرین ٹاؤن ہے، جہاں میرے عزیزوں کا وہ کنبہ آج بھی آباد ہے مگر وہ تینوں بھائی اب دنیا میں نہیں رہے جو مجھے چھوٹا بھائی بنا کر کراچی لے آئے تھے۔ وہاں عید کے دن کا معمول یہ تھا کہ سب گھروں کے مرد ایک دوسرے کو باہر بلا کر ایک ساتھ نماز پڑھنے نکلتے تھے اور واپسی پر سبھی محلے دارباری باری ایک ایک گھر جا کر عید کے پکوان چکھتے تھے۔ چکھنا اس لیے کہا کہ تقریباً 20-22 گھروں میں جانا لازمی ہوتا تھا۔ اس وَن ڈش پارٹی کے لیے محلے دار پیشگی منصوبہ بندی کر لیتے تھے کہ کس کے گھر عید کے دن کون سی خاص ڈش بنے گی جو مل کر چکھی جائے گی۔ ہر گھر کی خواتین یہ جانتی تھیں کہ عید کی نماز پڑھ کر واپس آنے والے مرد یہ ڈش پیٹ بھر کر نہیں کھائیں گے کیوں کہ انہیں ڈیڑھ درجن دیگر گھروں میں بھی جانا ہوگا۔اس لیے محدود مقدار میں پکائی جاتی تھی۔
ہر گھر کی خواتین اس خصوصی ڈش کی تیاری کا اہتمام بہت چاہ اور محنت سے کرتی تھیں کیوں کہ مرد حضرات ہر گھرمیں پکنے والا عید کا وہ پکوان ٹیسٹ کرتے اور اس کو متفقہ طور پر نمبر دیتے جاتے تھے۔ یوں سب گھروں سے فارغ ہو کر ان نمبروں کی بنیاد پر رزلٹ مرتب کیا جاتا تھا اور پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن کا اعلان ہوتا تھا۔ یہ پوزیشن کامیاب گھروں کی سگھڑ خواتین کے لیے اگلی عید تک فخر و انبساط کا باعث ہوا کرتی تھی اور پڑوسنیں آئے دن اس کا حوالہ دیا کرتیں:
’ اے بہنا! اس بار تو تم نے کمال کی دودھ سوّیاں بنا کر پہلا نمبر ہتھیا لیا مگر ہوشیار ہوجاؤ، اگلی باری میری ہوگی‘۔
اس پر ’فاتحِ عید‘ جواباً کہتیں:
’واہ ری بنّو! جیسے اس بار تو نے مقابلہ جیتنے کی کوشش ہی نہیں کی تھی اور رحم کھا کے مجھے پہلا ’لمبر‘ دلا دیا تھا! ۔دیکھ لیجیو! اگلی باری بھی میں جیتوں گی‘۔
’ہاں ہاں دیکھ لیں گے، دیکھ لیں گے۔ عید میں دن ہی کِتّے رہ گئے ہیں‘۔
اور یوں عید کے بغیر بھی عید کا مقابلہ سال بھر قائم و دائم رہتا تھا۔
ہائے! وہ پیارے دن کیسے نفرت کی سیاست پھیلنے سے خواب و خیال ہو کر رہ گئے۔
اب تو یہ صورت بن گئی ہے کہ عید کے دن بھی محلے دار اپنے گھر سے نکل کر سامنے والوں کو زبانی کلامی ’عید مبارک‘ کہنے کی زحمت نہیں کرتے۔
خیر اس سب کے باوجود ہماری جانب سے ’وی نیوز‘ کے قارئینِ کرام کو عید مبارک۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













