کولکتہ میں بنگلہ دیش اور بھارت کے مابین مشترکہ دریاؤں کے کمیشن (جے آر سی) کا 90 واں اجلاس جمعے کے روز اختتام پذیر ہوگیا ہے، تاہم دونوں ممالک کے حکام نے تاریخی گنگا واٹر شیئرنگ معاہدے کی تجدید یا اس کے مستقبل کے حوالے سے میڈیا کے سامنے کسی بھی قسم کا عوامی تبصرہ کرنے سے مکمل گریز کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نئے گنگا معاہدے پر بھارت سے تعلقات منحصر ہوں گے، بنگلہ دیش کا دوٹوک مؤقف
نیو ٹاؤن کے ایک مقامی ہوٹل میں ہونے والا یہ بند کمرہ اجلاس تقریباً ساڑھے 3 گھنٹے تک جاری رہا، جسے رواں سال 31 دسمبر کو ختم ہونے والے 1996 کے پانی کی تقسیم کے معاہدے کی میعاد پوری ہونے سے قبل کمیشن کا آخری اور انتہائی اہم ترین اجلاس قرار دیا جارہا ہے۔
اس اہم سفارتی گفتگو میں بنگلہ دیشی وفد کی قیادت جے آر سی کے رکن محمد انوار قادر نے کی جبکہ بھارتی ٹیم میں وزارتِ آبپاشی اور مغربی بنگال کے محکمہ آبپاشی کے اعلیٰ حکام شامل تھے۔
باضابطہ مذاکرات کے آغاز سے قبل دونوں ممالک کے وفود نے مشترکہ طور پر فارکا بیراج کے قریب گنگا کے مرکزی چینل، بھاگیرتھی اور پدما دریاؤں سمیت فیڈر کینال سسٹم میں پانی کے بہاؤ کا تفصیلی معائنہ بھی کیا تھا۔ تاہم، اس معائنے کے دوران سامنے آنے والے حقائق یا تفصیلات کو پبلک نہیں کیا گیا اور بھارتی حکام نے اس مشق کو محض ایک ’روٹین آبزرویشن‘ قرار دے کر بات آگے بڑھا دی۔
یہ بھی پڑھیں: چین کے بالائی ڈیم کے خدشات کے باوجود بھارت کا توانائی کا نیا منصوبہ منظرِ عام پر
بند کمرہ ملاقات میں معاہدے کی تجدید اور ایک نئے ترمیمی فریم ورک کے امکانات پر تفصیلی بات چیت تو ہوئی ہے، لیکن اس کے باوجود دونوں پڑوسیوں کے مابین اب بھی بعض اہم نکات پر گہرے اختلافات برقرار ہیں۔
بنگلہ دیش نے اجلاس میں یہ ٹھوس تجویز پیش کی ہے کہ فارکا بیراج کے بالائی علاقوں، بالخصوص جھارکھنڈ، بہار، اتر پردیش اور اتراکھنڈ کی نہروں کے ذریعے نکالے جانے والے پانی کو بھی دریا کے کل بہاؤ کے حساب کتاب میں شامل کیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب بھارت کا مؤقف ہے کہ گزشتہ 3 دہائیوں کے دوران گنگا کے طاس (بیسن) کے آس پاس آبادی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اور دریا کی نیویگیشن کی صلاحیت کم ہونے سے اس کا پورا نظام بدل چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش بھارت سرحد پر ہلاکتوں کے خلاف ڈھاکا میں احتجاج کا اعلان
نئی دہلی کا اصرار ہے کہ پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے صرف اسی بہاؤ کو معیار بنایا جانا چاہیے جس کی پیمائش فارکا پوائنٹ پر کی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ موجودہ معاہدے کے تحت اگر دریا کا بہاؤ 70 ہزار کیوسک یا اس سے کم ہو تو دونوں ممالک برابر کا حصہ لیتے ہیں، جبکہ بہاؤ بڑھنے کی صورت میں دونوں کے لیے مخصوص کوٹہ مختص کیا جاتا ہے۔













