گنگا واٹر شیئرنگ معاہدے کے مستقبل پر بنگلہ دیش اور بھارت کی خاموشی، جے آر سی اجلاس ختم

جمعہ 22 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کولکتہ میں بنگلہ دیش اور بھارت کے مابین مشترکہ دریاؤں کے کمیشن (جے آر سی) کا 90 واں اجلاس جمعے کے روز اختتام پذیر ہوگیا ہے، تاہم دونوں ممالک کے حکام نے تاریخی گنگا واٹر شیئرنگ معاہدے کی تجدید یا اس کے مستقبل کے حوالے سے میڈیا کے سامنے کسی بھی قسم کا عوامی تبصرہ کرنے سے مکمل گریز کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نئے گنگا معاہدے پر بھارت سے تعلقات منحصر ہوں گے، بنگلہ دیش کا دوٹوک مؤقف

نیو ٹاؤن کے ایک مقامی ہوٹل میں ہونے والا یہ بند کمرہ اجلاس تقریباً ساڑھے 3 گھنٹے تک جاری رہا، جسے رواں سال 31 دسمبر کو ختم ہونے والے 1996 کے پانی کی تقسیم کے معاہدے کی میعاد پوری ہونے سے قبل کمیشن کا آخری اور انتہائی اہم ترین اجلاس قرار دیا جارہا ہے۔

اس اہم سفارتی گفتگو میں بنگلہ دیشی وفد کی قیادت جے آر سی کے رکن محمد انوار قادر نے کی جبکہ بھارتی ٹیم میں وزارتِ آبپاشی اور مغربی بنگال کے محکمہ آبپاشی کے اعلیٰ حکام شامل تھے۔

باضابطہ مذاکرات کے آغاز سے قبل دونوں ممالک کے وفود نے مشترکہ طور پر فارکا بیراج کے قریب گنگا کے مرکزی چینل، بھاگیرتھی اور پدما دریاؤں سمیت فیڈر کینال سسٹم میں پانی کے بہاؤ کا تفصیلی معائنہ بھی کیا تھا۔ تاہم، اس معائنے کے دوران سامنے آنے والے حقائق یا تفصیلات کو پبلک نہیں کیا گیا اور بھارتی حکام نے اس مشق کو محض ایک ’روٹین آبزرویشن‘ قرار دے کر بات آگے بڑھا دی۔

یہ بھی پڑھیں: چین کے بالائی ڈیم کے خدشات کے باوجود بھارت کا توانائی کا نیا منصوبہ منظرِ عام پر

بند کمرہ ملاقات میں معاہدے کی تجدید اور ایک نئے ترمیمی فریم ورک کے امکانات پر تفصیلی بات چیت تو ہوئی ہے، لیکن اس کے باوجود دونوں پڑوسیوں کے مابین اب بھی بعض اہم نکات پر گہرے اختلافات برقرار ہیں۔

بنگلہ دیش نے اجلاس میں یہ ٹھوس تجویز پیش کی ہے کہ فارکا بیراج کے بالائی علاقوں، بالخصوص جھارکھنڈ، بہار، اتر پردیش اور اتراکھنڈ کی نہروں کے ذریعے نکالے جانے والے پانی کو بھی دریا کے کل بہاؤ کے حساب کتاب میں شامل کیا جانا چاہیے۔

دوسری جانب بھارت کا مؤقف ہے کہ گزشتہ 3 دہائیوں کے دوران گنگا کے طاس (بیسن) کے آس پاس آبادی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اور دریا کی نیویگیشن کی صلاحیت کم ہونے سے اس کا پورا نظام بدل چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش بھارت سرحد پر ہلاکتوں کے خلاف ڈھاکا میں احتجاج کا اعلان

نئی دہلی کا اصرار ہے کہ پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے صرف اسی بہاؤ کو معیار بنایا جانا چاہیے جس کی پیمائش فارکا پوائنٹ پر کی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ موجودہ معاہدے کے تحت اگر دریا کا بہاؤ 70 ہزار کیوسک یا اس سے کم ہو تو دونوں ممالک برابر کا حصہ لیتے ہیں، جبکہ بہاؤ بڑھنے کی صورت میں دونوں کے لیے مخصوص کوٹہ مختص کیا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان دشمن گٹھ جوڑ بے نقاب، فتنہ الخوارج، بھارت اور کالعدم ایکشن کمیٹی کے روابط کے شواہد سامنے آگئے

مئی 2026 میں ترسیلاتِ زر 4.25 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں

کنگ چارلس سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے فلاحی سرگرمیوں پر میرا شکریہ ادا کیا، ماہرہ خان

پاک افغان سرحدی علاقوں میں کارروائیاں، بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 26 دہشتگرد ہلاک

لاہور چرس برآمدگی کیس: مجرم کی 11 سالہ سزا مکمل، عمر قید کے مساوی قرار

ویڈیو

بجٹ 27-2026، کم از کم تنخواہ کتنی ہونی چاہیے؟ اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

ایران امریکا ثالثی کے بعد بیرونی قوتیں پاکستان میں عدم استحکام کی کوششیں کررہی ہیں: سفارتکار ضمیر اکرم

پاکستان کا اگلا وزیراعظم بلاول بھٹو ہوگا اور اپنی ماں اور نانا کی طرح ملک کی خدمت کرے گا، سینیٹر پیپلزپارٹی شہادت اعوان

کالم / تجزیہ

’سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن ہے‘

چاچا کرکٹ صرف تماشائی نہیں تھا

میں انس عبیداللہ عابد کے جنازے میں کیوں نہیں گیا؟