امریکی وفاقی جیوری نے جمعہ کے روز ایلون مسک کو سوشل میڈیا کمپنی ٹوئٹر کے شیئر ہولڈرز کو دھوکا دینے کے الزام میں ذمہ دار قرار دے دیا۔ مقدمے میں الزام تھا کہ مسک نے 2022 میں کمپنی کی خریداری کے دوران اس کے شیئرز کی قیمت کم کرنے کی کوشش کی تاکہ معاہدے پر دوبارہ مذاکرات یا اس سے دستبردار ہو سکیں۔
مزید پڑھیں:فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کرم کا دورہ، عیدالفطر فوجی جوانوں کے ساتھ منائی
سان فرانسسکو کی وفاقی عدالت میں ہونے والے اس مقدمے میں جیوری نے قرار دیا کہ مسک نے سوشل میڈیا پر کمپنی میں جعلی اور اسپام اکاؤنٹس (بوٹس) کی تعداد سے متعلق گمراہ کن بیانات دیے۔ تاہم نقصانات کی حتمی مالیت ابھی طے نہیں کی گئی، البتہ مدعی وکیل کے مطابق یہ قریباً 2.5 ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے۔
مسک کے وکلا نے فیصلے کو عارضی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپیل میں کامیابی کے لیے پرامید ہیں۔
یہ مقدمہ 2 مارچ کو شروع ہوا تھا اور جیوری نے کئی دن کی مشاورت کے بعد فیصلہ سنایا۔ اس کیس میں سرمایہ کاروں نے دعویٰ کیا تھا کہ مسک کے بیانات کے باعث انہوں نے مئی سے اکتوبر 2022 کے دوران کم قیمت پر اپنے شیئرز فروخت کیے۔
مزید پڑھیں: کرکٹر عماد وسیم کی سابق اہلیہ کی بچوں کے ہمراہ پرستاروں کو عید مبارک
واضح رہے کہ ایلون مسک نے اکتوبر 2022 میں ٹوئٹر کی خریداری مکمل کرکے بعد ازاں اس کا نام تبدیل کرکے ایکس (X) رکھ دیا تھا۔














