صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے ’عالمی یومِ آب‘ کے موقع پر بھارت سے فوری طور پر سندھ طاس معاہدہ کی مکمل بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے یکطرفہ معطلی کو بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
اپنے پیغام میں صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان بھارت کی جانب سے معاہدے کی یکطرفہ معطلی کی سخت مذمت کرتا ہے۔ ان کے مطابق مشترکہ آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنا نہایت تشویشناک عمل ہے۔
On World Water Day, President Zardari said water is a basic right, stressed gender disparities in access, urged sustainable management and rainwater harvesting. He condemned India’s weaponisation of shared water resources, calling for compliance of the Indus Waters Treaty. pic.twitter.com/vlDdbCsiZO
— The President of Pakistan (@PresOfPakistan) March 21, 2026
معاہدے کی معطلی کے خطرناک اثرات
صدر نے کہا کہ بھارت کا یہ اقدام نہ صرف معاہدے کی روح کے خلاف ہے بلکہ اس سے خوراک اور معیشت کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس عمل سے لاکھوں افراد کے روزگار متاثر ہو سکتے ہیں اور بین الاقوامی قوانین کے تحت سرحدی وسائل کے انتظام کے لیے خطرناک مثال قائم ہوگی۔
سندھ طاس معاہدہ کیا ہے؟
واضح رہے کہ1960 میں ورلڈ بینک کی ثالثی میں ہونے والے اس معاہدے کے تحت دریائے سندھ، جہلم اور چناب پاکستان جبکہ راوی، بیاس اور ستلج بھارت کے حصے میں آئے تھے۔
یہ بھی پڑھیے پانی کو جنگی ہتھیار بنانے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتے ہیں، صدر اور وزیرِ اعظم
جون 2025 میں مستقل عدالت برائے ثالثی نے واضح کیا تھا کہ بھارت یکطرفہ طور پر معاہدہ معطل نہیں کر سکتا۔
پانی اور صنفی عدم مساوات پر توجہ
صدر زرداری نے کہا کہ اس سال عالمی یومِ آب کا موضوع ’پانی اور صنف‘ ہے، جو اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ پانی کی کمی کا بوجھ خواتین اور بچیوں پر زیادہ پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے کئی علاقوں میں خواتین اور بچیاں روزانہ گھنٹوں پانی لانے میں صرف کرتی ہیں، جس سے ان کی تعلیم، روزگار اور خاندانی زندگی متاثر ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے سندھ طاس معاہدہ کیا ہے، کیا بھارت پاکستان کا پانی روک سکتا ہے؟
صدر کے مطابق صاف پانی اور صفائی تک رسائی آئینی حق ہے اور حکومت کو اس کی فراہمی کو ترجیح دینا ہوگی۔ اس کے لیے پانی کے وسائل کے بہتر انتظام اور خواتین کی شمولیت ضروری ہے۔
عوامی سطح پر اقدامات کی ضرورت
انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے جیسے اقدامات اپنائیں تاکہ زیرِ زمین پانی کی سطح بہتر ہو سکے۔
صدر زرداری نے کہا کہ بڑھتی آبادی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پانی کے وسائل پر دباؤ بڑھ رہا ہے، اس لیے پانی کے استعمال میں احتیاط ناگزیر ہے۔














