وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے پیٹرول اور ڈیزل پر نمایاں سبسڈی فراہم کی ہے جس سے مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد ملی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تیل کے بحران پر قابو پانے کے لیے انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے کونسے کام تجویز کیے؟
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصدق ملک نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر پیٹرول پر 127 روپے اور ڈیزل پر 200 روپے سے زائد سبسڈی دی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اپنے اخراجات میں بھی نمایاں کمی کی ہے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔
کسانوں اور عوام کو ریلیف
مصدق ملک نے کہا کہ کسانوں کو سہولت دینے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ مشکل حالات میں عام آدمی پر بوجھ کم سے کم ڈالا جائے۔
کفایت شعاری مہم کا آغاز
وفاقی وزیر نے کہا کہ پیٹرول کی بچت کے لیے سخت اقدامات کیے گئے ہیں جن کے تحت سرکاری گاڑیوں کو محدود کر دیا گیا ہے جبکہ وفاقی وزرا اور مشیروں کے غیر ضروری دوروں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کے بحران میں کمی کے امکانات روشن، متبادل ذرائع سے تیل آنا شروع
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے خود بھی موجودہ صورتحال کے پیش نظر اپنے دورے منسوخ کر دیے ہیں۔
لگژری گاڑیوں پر اضافی بوجھ
مصدق ملک نے بتایا کہ حکومت نے لگژری گاڑیوں کے ایندھن پر 200 روپے ٹیکس عائد کیا ہے تاکہ بوجھ غریب طبقے کے بجائے صاحبِ حیثیت افراد پر منتقل کیا جا سکے۔ ان کے مطابق سرکاری لگژری گاڑیاں اب صرف سیکیورٹی مقاصد کے لیے استعمال ہوں گی۔
مشکل وقت میں اتحاد کی ضرورت
وفاقی وزیر نے زور دیا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نکلنے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
مزید پڑھیں: تیل میں کم سرمایہ کاری سے عالمی بحران کا خدشہ، آرامکو چیف کا انتباہ
انہوں نے کہا کہ حکومت غریب طبقے کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور مشکل وقت میں کفایت شعاری کو اپنانا ناگزیر ہے۔













