پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں ثالثی کے لیے خود کو ایک اہم کردار کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا ہے، اور اطلاعات کے مطابق اسلام آباد کو ممکنہ مذاکراتی مقام کے طور پر بھی پیش کیا جا رہا ہے جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات چیت کی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان، ترکیہ اور مصر کی امریکا ایران جنگ بندی کے لیے کوششیں: رائٹرز
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی قیادت نے حالیہ دنوں میں سفارتی رابطوں کو تیز کیا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات چیت کی جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے پیر کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے رابطہ کیا۔
Axios reports efforts are underway to arrange a meeting this week in Pakistan between Mohammad Bagher Qalibaf and US officials JD Vance, Steve Witkoff, and Jared Kushner. pic.twitter.com/yoPSUxST0z
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) March 23, 2026
وزیرِ اعظم نے ایرانی قیادت کو یقین دلایا کہ پاکستان خطے میں امن کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔
اسلام آباد میں مذاکرات کا امکان
رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان نے اسلام آباد کو ممکنہ مذاکراتی مقام کے طور پر پیش کیا ہے جہاں آنے والے دنوں میں امریکا اور ایران کے اعلیٰ حکام کے درمیان بات چیت ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: صدر ٹرمپ کے امریکا ایران مذاکرات کی خبروں پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی
پاکستانی حکام پسِ پردہ رابطوں کے ذریعے ایران اور امریکی نمائندوں کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں کردار ادا کر رہے ہیں جن میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں۔
دیگر ممالک کی شمولیت
پاکستان کے علاوہ ترکیہ اور مصر بھی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں متحرک ہیں۔ نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان سے رابطہ کیا جبکہ مصر کے وزیر خارجہ نے بھی ایرانی اور پاکستانی قیادت سے بات چیت کی۔
Pakistan reportedly may host US-Iran talks later this week. Islamabad has been pitching itself as a mediator in recent days, and the USG praised Pakistan last year for its willingness to play an Iran mediation role. https://t.co/pn9sYB7GY1
— Michael Kugelman (@MichaelKugelman) March 23, 2026
ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی تصدیق نہیں کی ہے۔ دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ اپنے چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور دونوں جانب سے مؤقف میں سختی برقرار ہے جس سے کسی فوری سمجھوتے کے امکانات محدود نظر آتے ہیں۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے پاور پلانٹس پر حملے کی دھمکی کو عارضی طور پر 5 دن کے لیے مؤخر کر دیا ہے جس سے سفارتی کوششوں کے لیے کچھ مہلت مل گئی ہے۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کا مسعود پزشکیان کو فون: خطے میں امن کے لیے مذاکرات پر زور
ماہرین کے مطابق پاکستان کا غیر جانبدارانہ کردار اور یہ حقیقت کہ وہ خطے میں امریکی اڈوں کی میزبانی نہیں کرتا اسے ایک قابل قبول ثالث کے طور پر سامنے لا رہا ہے۔














