چین کا مستقبل کے منصوبوں کا اعلان، پاکستان کے ساتھ شراکت داری کے فروغ پر زور

منگل 24 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین کے پاکستان میں سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے کہا ہے کہ چین کے ’ٹو سیشنز‘ کی کامیاب تکمیل اور 15ویں 5 سالہ منصوبے کے خدوخال کے اجرا سے اعتماد، استحکام اور مسلسل معاشی ترقی کا اظہار ہوتا ہے، جو عالمی برادری کے لیے ایک واضح اور مثبت پیغام ہے۔

پاکستان کے ساتھ تعاون کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ 2 برس کے دوران چین نے بلوچستان میں بچوں کو 70 ہزار ہیلتھ کٹس فراہم کیں، جو 23 اضلاع اور 766 اسکولوں تک پہنچیں۔

مزید پڑھیں:چین کے دوسرے بڑے کروز جہاز کی تیاری میں اہم پیشرفت

گزشتہ سال چینی ڈاکٹروں نے پیدائشی دل کے عارضے میں مبتلا 8 بچوں کے کامیاب آپریشن کیے۔ رواں سال کے پہلے 2 ماہ میں گوادر میں چین کے تعاون سے قائم چین پاکستان فرینڈشپ اسپتال میں 48,656 مریضوں کا علاج کیا گیا، جبکہ روزانہ ایک ہزار سے زائد مریضوں کو مفت تشخیص اور علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔

امسال چین 100 زچہ و بچہ صحت مراکز کو 80 ہزار سے زائد طبی آلات اور سامان فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جس سے قریباً 60 لاکھ افراد مستفید ہوں گے۔

سفیر نے زور دیا کہ چین عالمی معاشی ترقی کا ایک اہم محرک ہے اور عالمی معیشت میں قریباً 30 فیصد حصہ ڈال رہا ہے۔ 2025 میں چین کی مجموعی قومی پیداوار 20 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گئی، جبکہ 2026 کے لیے 4.5 سے 5 فیصد شرح نمو کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جو عالمی منظرنامے میں استحکام کا باعث ہے۔

انہوں نے جدت پر مبنی ترقی پر چین کی توجہ کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ 2025 میں تحقیق و ترقی پر اخراجات 522.8 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے۔ نئے منصوبے کے تحت آر اینڈ ڈی اخراجات میں سالانہ 7 فیصد سے زائد اضافہ متوقع ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل صنعتوں اور اسمارٹ مینوفیکچرنگ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
سفیر نے کہا کہ چین 5جی ٹیکنالوجی اور نئی توانائی کی گاڑیوں سمیت اہم شعبوں میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ چین نے دنیا کا سب سے بڑا 5جی نیٹ ورک قائم کیا ہے جس میں 3.5 ملین سے زائد بیس اسٹیشنز شامل ہیں، جبکہ 2025 میں نئی توانائی کی گاڑیوں کی پیداوار اور فروخت 12 ملین یونٹس سے تجاوز کر گئی، جو عالمی سطح پر قیادت کو ظاہر کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چینی کمپنیاں پاکستان میں بالخصوص 5جی انفراسٹرکچر اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں مواقع تلاش کر رہی ہیں۔

تجارت اور کھلے پن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ چین دنیا کا سب سے بڑا تجارتی ملک ہے، جس کی 2025 میں مجموعی درآمدات و برآمدات 6.24 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ ملک خصوصاً ہائی ٹیک شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو متوجہ کر رہا ہے، جبکہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو جیسے اقدامات نے عالمی تعاون، انفراسٹرکچر کی ترقی اور روزگار کے مواقع کو فروغ دیا ہے۔

سفیر نے سبز ترقی کے لیے چین کے عزم کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت 1.6 بلین کلوواٹ سے تجاوز کر چکی ہے، جو مجموعی تنصیب شدہ بجلی کا نصف سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے کاربن اخراج میں کمی اور پائیدار ترقی کے فروغ میں نمایاں پیشرفت کی ہے، اور وہ عالمی موسمیاتی کوششوں میں قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے امن، ثقافتی تبادلوں اور شمولیتی طرز حکمرانی کے فروغ کے لیے چین کے عالمی اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلوبل سیکیورٹی انیشی ایٹو (GSI) کو 130 سے زائد ممالک اور بین الاقوامی و علاقائی تنظیموں کی حمایت حاصل ہے اور اسے 140 سے زائد دوطرفہ اور کثیرالجہتی دستاویزات میں شامل کیا جا چکا ہے۔

یہ اقدام تصادم کے بجائے مکالمہ، اتحاد کے بجائے شراکت داری اور زیرو سم مقابلے کے بجائے باہمی فائدے پر مبنی تعاون کو فروغ دیتا ہے۔ گلوبل سیولائزیشن انیشی ایٹو (GCI) کا حوالہ دیتے ہوئے سفیر نے کہا کہ چین نے 150 سے زائد ممالک کے ساتھ ثقافتی تعاون کے معاہدے کیے ہیں، کلچر ایئر اور ٹورازم ایئر جیسے پروگرام منعقد کیے ہیں، اور باہمی سمجھ بوجھ کو فروغ دینے کے لیے سالانہ 3 لاکھ سے زائد طلبا کے تبادلوں کو ممکن بنایا ہے۔

انہوں نے گلوبل گورننس انیشی ایٹو (GGI) کا بھی ذکر کیا، جسے 150 سے زائد ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں نے سراہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیویارک میں ’گروپ آف فرینڈز آف گلوبل گورننس‘ قائم کیا گیا ہے، جس میں پاکستان بھی شامل ہے، تاکہ عالمی اداروں میں گلوبل ساؤتھ کے ممالک کی نمائندگی کو بہتر بنایا جا سکے اور ایک زیادہ منصفانہ عالمی نظام کو فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے عالمی حکمرانی اور امن کے فروغ میں وزیر اعظم پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے ان کی مؤثر بین الاقوامی خدمات کا اعتراف کیا۔ سفیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور چین ہر موسم کے اسٹریٹجک شراکت دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سال سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ، چین کے 15ویں 5 سالہ منصوبے اور پاکستان کے ’اڑان پاکستان‘ اقدام کے آغاز کے ساتھ دوطرفہ تعاون کو مزید گہرا کرنے اور ترقیاتی حکمت عملیوں کو ہم آہنگ کرنے کے نئے مواقع فراہم کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں:چین کی فوج میں مصنوعی ذہانت کی انٹری، جنگ کا انداز بدلنے کو تیار

مہمانِ خصوصی شذرہ منصب علی خان کھرل، وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی، نے بھی پاکستان چین تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کیا اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تحت جاری تعاون کو سراہتے ہوئے اسے پائیدار ترقی اور معاشی نمو کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔ انہوں نے چین کے گلوبل گورننس انیشی ایٹو کو بھی سراہا اور اسے ایک زیادہ جامع اور متوازن عالمی نظام کے فروغ میں اہم قرار دیا۔

دریں اثنا، پریس کاؤنسلر وانگ شانگجیے نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات اعلیٰ معیار کی ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) 2.0 کے تحت تعاون کو آگے بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا، جس میں ترقی، روزگار، جدت، سبز ترقی اور کھلے پن پر توجہ دی جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون علاقائی روابط کو مزید مضبوط کرے گا اور مشترکہ مستقبل کے حامل چین پاکستان کمیونٹی کو نئی بلندیوں تک لے جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مانسہرہ تا چلاس نئی موٹروے کی منظوری، چین سے براہِ راست رابطے کا منصوبہ 2 مرحلوں میں مکمل ہوگا

کیا اے آئی رومانوی تعلقات انسانی خوشی میں اضافہ کر سکتے ہیں؟ عالمی سروے کے حیران کن نتائج سامنے آگئے

پاکستان کا تنازعات کے حل کے لیے ثالثی کو اولین ترجیح بنانے کا مطالبہ

پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ

’میں خیریت سے ہوں‘، طاہرہ سید نے اپنی موت کی خبر کو فیک قرار دے دیا

ویڈیو

گلگت بلتستان انتخابات: ووٹرز سیاسی جماعتوں سے کیا چاہتے ہیں؟

مدینہ منورہ کا مرکز جہاں روزانہ ہزاروں قرآن مجید شائع ہوتے ہیں

بجٹ 27-2026 میں کون سی اشیا سستی ہونے کا امکان ہے؟

کالم / تجزیہ

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے

جب یورپ کو پاکستان کی بات سمجھ آئی

گجرات کی گلیاں انور مسعود کو یاد کرتی ہیں