اسلام آباد ہائیکورٹ نے شوہر سے علیحدگی کے بعد جہیز کے سامان کی واپسی سے متعلق درخواست پر بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے فیملی کورٹ کو 2 ماہ کے اندر کیس کا فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا جبکہ حکومت کو خواتین کے مالی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شادی پر لاکھوں روپے اور 21 تولہ سونے کا جہیز لینے پر معروف یوٹیوبر تنقید کی زد میں
جسٹس محسن اختر کیانی نے خاتون شہری کی درخواست پر 28 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ فیصلے میں اسلامی قوانین، قرآنی آیات اور غیر ملکی عدالتوں کے نظائر کا حوالہ بھی دیا گیا۔
ذاتی تحائف بھی کامل طور پر خاتون کی ملکیت
عدالت نے فیملی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ کے سابقہ فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپیلٹ کورٹ نے غلطی کی اور درخواست گزار خاتون کے حقوق سے انکار کیا۔ عدالت کے مطابق شادی کے دوران حاصل ہونے والی جائیداد میں بیوی کا حق تسلیم کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ اس کی شراکت داری ثابت ہو۔
مزید پڑھیے: قومی اسمبلی کمیٹی نے جہیز پر پابندی کا بل مسترد کر دیا
فیصلے میں واضح کیا گیا کہ جہیز اور دلہن کو دیے گئے ذاتی تحائف مکمل طور پر خاتون کی ملکیت ہوتے ہیں اور اگر جہیز کا سامان واپس نہ کیا جائے تو خاتون اس کی متبادل قیمت حاصل کرنے کی حقدار ہے۔
عدالت نے حکومت کو ہدایت دی کہ خواتین کے مالی اور ملکیتی حقوق کے تحفظ اور مؤثر نفاذ کے لیے واضح قانون سازی کی جائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ خواتین کے آئینی اور قانونی حقوق کو مضبوط بنانے کے لیے پالیسی اقدامات ناگزیر ہیں اور ایسی قانون سازی ہونی چاہیے جس کے تحت گھریلو خواتین کو بھی شادی کے دوران حاصل ہونے والے اثاثوں میں مناسب حصہ مل سکے۔
آبادی کے اس نصف حصے کے حقوق کا مکمل تحفط لازمی قرار
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ خواتین ملک کی تقریباً نصف آبادی ہیں اور ان کے حقوق کا تحفظ ایک منصفانہ اور ترقی پسند معاشرے کے قیام کے لیے ضروری ہے۔
مزید پڑھیں: جہیز کم لانے پر خاتون کو کم سن بیٹے کے سامنے زندہ جلا دیا گیا
نکاح نامے میں نئی شق شامل کرنے کی ہدایت جو مخصوص قانون کے بغیر بھی کارآمد اقدام ہوگا
اسلام آباد ہائیکورٹ نے نکاح نامے میں ترمیم کی بھی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اس میں ایسی شق شامل کی جائے جس کے تحت شادی کے بعد حاصل ہونے والی جائیداد کو طلاق یا شوہر کی وفات کی صورت میں بیوی کے ساتھ مساوی طور پر تقسیم کیا جا سکے۔
عدالت کے مطابق یہ اقدام قانون سازی کے بغیر بھی خواتین کے جائیدادی حقوق کے تحفظ کا ایک متبادل راستہ بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سلنڈر بلاسٹ یا جہیز کے لیے تشدد؟ نکی بھاٹی کیس نے ہلا کر رکھ دیا
مزید برآں عدالت نے ہدایت کی کہ اسکول، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر لڑکیوں کو ازدواجی حقوق سے متعلق تعلیم دی جائے تاکہ وہ نکاح نامے، خصوصاً کالم نمبر 18 میں، اپنے حقوق سے متعلق بہتر آگاہی حاصل کر سکیں۔














