بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان سے آج بھی کسی کو ملاقات کی اجازت نہ ملی۔
عمران خان کی بہنیں اور کارکنان بانی سے ملاقات کے لیے پہنچے تاہم ان کو اڈیالہ جیل پہنچنے سے قبل ہی روک لیا گیا، جس کے خلاف کارکنوں نے احتجاج بھی کیا۔
مزید پڑھیں: کیا تحریک انصاف عمران خان کو جلد رہا کروالے گی؟
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہاکہ فی الحال کسی بھی سطح پر مذاکرات یا بات چیت نہیں ہو رہی، اگر کسی میں واقعی ہمت ہے تو وہ براہِ راست عمران خان سے رابطہ کرے اور مذاکرات کرے۔
انہوں نے کہاکہ عمران خان 3 سال سے قید تنہائی میں ہیں اور انہیں اب ڈیل یا مذاکرات کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن وہ صرف ملک کے مفاد کے لیے کھڑے ہیں اور اس معاملے کو اللہ کے سپرد کر چکے ہیں۔
علیمہ خان نے کہاکہ عید کا موقع بھی گزر گیا لیکن انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ آج کے دن ملاقات کے لیے حاضر ہیں اور اس وقت تک وہ یہاں موجود رہیں گی جب تک ملاقات نہ ہو۔
انہوں نے زور دیا کہ یہ ملاقات ان کا آئینی اور قانونی حق ہے اور اس کی عدم فراہمی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
جب صحافی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے اسپتال منتقل ہونے اور دوبارہ جیل واپسی کے بارے میں پوچھا تو علیمہ خان نے کہاکہ انہیں اور فیملی کو اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی اور سب کچھ سوشل میڈیا اور میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا۔
انہوں نے مزید کہاکہ جن 2 ڈاکٹرز کے نام وہ تجویز کر چکے تھے، ان میں سے ایک ڈاکٹر ندیم قریشی علاج سے متعلق کوئی جواب نہیں دے رہے، جس سے شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں۔
اس موقع پر نورین نیازی نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان بے گناہ قید میں ہیں اور ان پر ظلم ہو رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ جیل انتظامیہ اور حکومتی اراکین سے اس کا حساب لیں گے اور ضرورت پڑی تو خود بانی پی ٹی آئی عمران خان کو جیل سے نکالیں گے۔
مزید پڑھیں: حکومت کا وعدہ پورا: عمران خان کا عید پر صاحبزادوں سے فون پر رابطہ ہوگیا
نورین نیازی نے مزید کہاکہ ملک میں قانون نافذ کرنے والا کوئی نہیں اور لوگ مسلسل ظلم سہتے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کارکن صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہیں، جبکہ اگر ن لیگ یا پیپلز پارٹی ہوتی تو حالات مزید خراب ہو جاتے۔














