موجودہ تیل بحران اور 1973 کے عالمی تیل بحران میں کیا فرق ہے؟

منگل 24 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا اس وقت ایک ایسے تیل بحران کا سامنا کررہی ہے جسے ماہرین تاریخ کا سب سے بڑا توانائی بحران قرار دے رہے ہیں۔ موجودہ صورتحال کا موازنہ اکثر 1973 کی تیل بحران سے کیا جارہا ہے، تاہم دونوں بحرانوں کے اسباب، شدت اور عالمی اثرات میں نمایاں فرق موجود ہے۔

سپلائی میں کمی کتنی بڑی ہے؟

1973 میں عرب تیل برآمد کرنے والے ممالک نے امریکا کی اسرائیل حمایت کے ردعمل میں تیل کی فراہمی محدود کر دی تھی، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی سے روزانہ تقریباً 4.5 ملین بیرل تیل کم ہو گیا تھا، جو اُس وقت عالمی سپلائی کا تقریباً 7 فیصد بنتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: تیل میں کم سرمایہ کاری سے عالمی بحران کا خدشہ، آرامکو چیف کا انتباہ

موجودہ بحران میں صورتحال کہیں زیادہ سنگین سمجھی جا رہی ہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل تیل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے، جو عالمی تیل استعمال کا تقریباً پانچواں حصہ ہے۔

قیمتوں پر اثرات

1973 کے بحران کے دوران خام تیل کی قیمت چند ماہ میں 3 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 12 ڈالر فی بیرل سے زیادہ ہو گئی تھی۔ امریکا اور یورپ میں پیٹرول کی قلت پیدا ہوئی، لمبی قطاریں لگ گئیں اور حکومتوں کو ایندھن راشن بندی تک کرنا پڑی۔

موجودہ بحران میں جنگ شروع ہونے سے پہلے خام تیل کی قیمت تقریباً 66 ڈالر فی بیرل تھی جو بڑھ کر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔ کئی ممالک میں پیٹرول کی قیمتوں میں 50 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

بحران کی نوعیت میں بنیادی فرق

1973 کا بحران ایک متحد عرب بلاک کی جانب سے مخصوص مغربی ممالک کے خلاف اجتماعی اقدام تھا۔ اس کے برعکس موجودہ بحران کسی اجتماعی پیداواری کٹوتی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک اہم سمندری گزرگاہ میں رکاوٹ کے باعث پیدا ہوا ہے، جہاں سے خلیجی ممالک کی زیادہ تر تیل برآمدات گزرتی ہیں۔

عالمی معیشت پر اثرات

1973 کے تیل جھٹکے کے بعد دنیا شدید مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی جمود کا شکار ہوئی جسے بعد میں اسٹیگ فلیشن کہا گیا۔ امریکا میں مہنگائی 12 فیصد سے اوپر چلی گئی جبکہ بے روزگاری تقریباً دوگنی ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کا ایران کے اقدامات پر سخت ردعمل، سفارتی عملہ ملک بدر

ماہرین کے مطابق موجودہ بحران بھی اسی طرح کی معاشی صورتحال پیدا کر سکتا ہے، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے لیے خطرہ زیادہ ہے کیونکہ ان کی معیشتیں درآمدی توانائی پر زیادہ انحصار کرتی ہیں۔

1973 میں حکومتوں نے رفتار کی حد کم کی، اتوار کو گاڑی چلانے پر پابندیاں لگائیں اور توانائی بچانے کی مہمات شروع کیں۔ اسی بحران کے بعد متبادل توانائی اور جوہری بجلی میں سرمایہ کاری تیز ہوئی۔

موجودہ بحران میں عالمی توانائی ادارے کے رکن ممالک نے ہنگامی ذخائر سے 400 ملین بیرل تیل جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مارکیٹ کو وقتی سہارا دیا جا سکے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بحران طویل ہوا تو یہ اقدامات ناکافی ثابت ہو سکتے ہیں۔

آج کا بحران کیوں زیادہ حساس ہے؟

1973 میں زیادہ متاثر مغربی ممالک تھے، جبکہ آج سب سے زیادہ خطرہ ایشیا کی ابھرتی معیشتوں کو لاحق ہے۔ کئی ترقی پذیر ممالک کے پاس صرف تقریباً 20 دن کا تیل ذخیرہ موجود ہے، جس کے باعث طویل بحران خوراک اور مہنگائی کے شدید مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی تو عالمی معیشت ایک نئے بڑے معاشی جھٹکے کی طرف جا سکتی ہے، جس کے اثرات 1973 کے بحران سے بھی زیادہ گہرے ہو سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے 27 مارچ کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان کردیا

ڈیپ فیک کی دنیا: لوگ تشکیک کا شکار،شناخت کی تصدیق کا مؤثر طریقہ کیا؟

مشرق وسطیٰ کشیدگی: وزیراعظم شہباز شریف اور امیر قطر کی ٹیلیفونک گفتگو، رابطے میں رہنے پر اتفاق

مشرق وسطیٰ کشیدگی: سندھ کابینہ کے اراکین 3 ماہ کی تنخواہوں سے دستبردار، 60 فیصد سرکاری گاڑیاں معطل

چین میں بیلٹ اینڈ روڈ اسکالرشپ ایوارڈ تقریب، پاکستانی سفیر کی شرکت، طلبہ کو اعزازات سے نوازا

ویڈیو

ٹرمپ کی چیخیں، امریکا لیٹ گیا، اسلام آباد میں اہم بیٹھک، مذاکرات خفیہ کیوں؟

اورکزئی کی رابعہ بصری جو حصول علم کے لیے میلوں پیدل سفر کرتی ہیں

گلگت بلتستان کے شہریوں کا پاکستان کے لیے تن، من، دھن قربان کرنے کا عزم

کالم / تجزیہ

کرکٹ ورلڈ کپ 92‘ فتح کا 34واں سال

کیا عارضی جنگ بندی مستقل ہو سکتی ہے؟

جالب نامہ