اوپن اے آئی نے اپنی وائرل مصنوعی ذہانت پر مبنی ویڈیو ایپ ’سورا‘ کو بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے جو گزشتہ برس خزاں میں لانچ ہونے کے بعد مختصر ویڈیوز کی دنیا میں تیزی سے مقبول ہوئی تھی تاہم اس کے ساتھ ہی ڈیپ فیک مواد سے متعلق سنجیدہ خدشات بھی سامنے آئے تھے۔
کمپنی نے ایک مختصر سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ وہ ’سورا ایپ کو الوداع کہہ رہی ہے‘ اور جلد ہی صارفین کو اس بات سے آگاہ کیا جائے گا کہ وہ اپنی تخلیق کردہ ویڈیوز کو کس طرح محفوظ بنا سکتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ’سورا کے ذریعے آپ کی تخلیقات اہم تھیں اور ہمیں اندازہ ہے کہ یہ خبر مایوس کن ہو سکتی ہے‘۔
یہ بھی پڑھیں: اوپن اے آئی رواں سال ساڑھے 3 ہزار نئی بھرتیاں کرے گی
چیٹ جی پی ٹی تیار کرنے والی کمپنی نے ستمبر میں سورا کو اس مقصد کے تحت متعارف کرایا تھا کہ وہ ٹک ٹاک، یوٹیوب اور میٹا کی ملکیت والے انسٹاگرام اور فیس بک جیسے پلیٹ فارمز کی طرح مختصر ویڈیو مواد کے شعبے میں اپنی جگہ بنا سکے اور ممکنہ طور پر اشتہاری آمدنی حاصل کر سکے۔
تاہم اس ایپ کے اجرا کے بعد ماہرین، تعلیمی حلقوں اور مختلف تنظیموں کی جانب سے خدشات میں اضافہ ہوا کہ محض تحریری ہدایات کے ذریعے ویڈیوز تخلیق کرنے کی سہولت غیر رضامندانہ مواد اور حقیقت سے قریب تر ڈیپ فیک ویڈیوز کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہے جس سے غلط معلومات اور گمراہ کن مواد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کم عمر بچوں کی جعلی نازیبا تصاویر بنانے کا الزام، ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی کیخلاف مقدمہ
عوامی دباؤ کے پیش نظر اوپن اے آئی کو معروف شخصیات جن میں مائیکل جیکسن، مارٹن لوتھر کنگ جونیئر اور مسٹر راجرز شامل ہیں کی اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز پر پابندیاں سخت کرنا پڑیں جن میں انہیں غیر معمولی یا گمراہ کن انداز میں دکھایا جا رہا تھا۔
ڈزنی جس نے گزشتہ سال اپنے کرداروں کو سورا پلیٹ فارم پر لانے کے لیے اوپن اے آئی کے ساتھ معاہدہ کیا تھا انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ وہ کمپنی کے اس فیصلے کا احترام کرتا ہے کہ وہ ویڈیو جنریشن کے شعبے سے دستبردار ہو کر اپنی ترجیحات کو کسی اور سمت منتقل کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی چیٹ بوٹ ’اپنی والدہ‘ کو یاد کرکے جذباتی، صارفین دنگ
ڈزنی کے مطابق ’ہم اپنی ٹیموں کے درمیان ہونے والے تعمیری تعاون اور اس سے حاصل ہونے والے تجربات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ہم آئندہ بھی اے آئی پلیٹ فارمز کے ساتھ مل کر ایسے طریقے تلاش کرتے رہیں گے جن کے ذریعے شائقین تک ذمہ داری کے ساتھ پہنچا جا سکے جبکہ تخلیق کاروں کے حقوق اور دانشورانہ ملکیت کا مکمل احترام بھی برقرار رکھا جائے‘۔














