متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ مشرق وسطی کی جنگ کے اثرات ہمارے دروازے تک پہنچ چکے ہیں اور کسی کو اندازہ نہیں کہ آنے والے دنوں میں خطے کی صورتحال کیسی ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنگی حالات میں عوام کا کردار بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے اور پوری قوم پاک افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
کراچی میں فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ پاکستان ثالثی اور مذاکرات کے لیے پرعزم ہے اور حکومت کی تمام کاوشوں میں ایم کیو ایم پاکستان ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ میں حکومت اور پاک فوج نے اہم کردار ادا کیا ہے اور قوم خطے کی صورتحال میں اپنی ذمہ داری کا ثبوت دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاک فوج ہر صورتحال سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے اور عوام کی حمایت کے ساتھ وہ کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
خالد مقبول صدیقی نے یہ بھی کہا کہ قوم 28 ویں ترمیم کی منتظر ہے اور حکومت سے ایم کیو ایم نے صرف ایک ہی مطالبہ کیا ہے، اور حکومت کی حمایت کے بدلے پارٹی نے کسی بھی قسم کی مالی یا سیاسی درخواست نہیں کی۔
28ویں ترمیم کے ذریعے عوام کو مکمل اختیارات دینے کا مطالبہ
خالد مقبول صدیقی اور فاروق ستار نے کہا ہے کہ پاکستان کا آئین عوام کو حقوق دینے کے لیے بنایا گیا اور اب وقت آگیا ہے کہ عوام کو ان کے جائز اختیارات دیے جائیں۔ خالد مقبول صدیقی نے زور دیا کہ 28 ویں آئینی ترمیم فوری طور پر نافذ کی جائے اور اس میں آرٹیکل 140 اے کو شامل کیا جائے تاکہ بلدیاتی نظام میں عوامی اختیارات کو مضبوط بنایا جا سکے۔
فاروق ستار نے کہا کہ پاکستان میں جاگیردارانہ جمہوریت کا خاتمہ ضروری ہے اور ہر شہری کو اپنے فیصلے کرنے کا حق دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ 25 کروڑ عوام کا فیصلہ صرف 1200 پارلیمنٹرین نہیں کر سکتے اور اختیارات کے بغیر کسی میئر یا مقامی نمائندے کو ذمہ دار نہیں بنایا جا سکتا۔
آرٹیکل 140 اے کے نفاذ کے بغیر حقیقی جمہوریت ممکن نہیں
خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ شہر پر قبضے اور جاگیردارانہ نظام کی وجہ سے عوام کو اختیار منتقل نہیں کیا جا رہا، جبکہ سیاسی جماعتیں عوام کو اختیارات دینے کے لیے تیار ہیں۔
مزید پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کوششیں قابل تعریف ہیں، چین
انہوں نے واضح کیا کہ جاگیردارانہ سوچ رکھنے والی جماعتیں عوامی اختیارات کی منتقلی کی مخالفت کرتی ہیں، لیکن پاکستان کا آئین عوام کے حق کے لیے بنایا گیا ہے اور آرٹیکل 140 اے کے نفاذ کے بغیر حقیقی جمہوریت ممکن نہیں۔













