حکمت عملی اور پیشرفت پر اطمینان
وزیراعظم نے خلیجی ممالک کو اشیائے خورونوش کی فراہمی کے لیے بنائی گئی حکمت عملی اور اب تک کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور متعلقہ محکموں اور افسران کی کارکردگی کو سراہا۔
انہوں نے ہدایت کی کہ خلیجی ممالک کی غذائی ضروریات اور ان کے غذائی تحفظ کے حوالے سے تمام ادارے قریبی رابطے میں رہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ موجودہ علاقائی صورتحال میں، جب عالمی سپلائی لائن متاثر ہو رہی ہے، خلیجی ممالک کی غذائی ضروریات کا خیال رکھنا پاکستان کا فرض ہے۔
یہ بھی پڑھیے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین کی ملاقات، اشیائے خورونوش کی برآمدات پر رپورٹ
انہوں نے ہدایت دی کہ ملکی ضروریات کو متاثر کیے بغیر وافر مقدار میں دستیاب اشیائے خورونوش کی برآمد کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
طلب و رسد کی سخت نگرانی اور تاخیر پر وارننگ
وزیراعظم نے واضح کیا کہ ملک میں اشیائے خورونوش کی طلب و رسد کی مکمل نگرانی کی جائے۔ حکومتی فیصلوں میں کسی قسم کی تاخیر قابل قبول نہیں۔ تاخیر کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
ہوائی اور بحری آپریشنز میں اضافے کی ہدایت
وزیراعظم نے کراچی، گوادر اور دیگر بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر فلائٹ آپریشنز بڑھانے کے لیے جامع لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔
40 فوڈ آئٹمز کی برآمد کی منظوری
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ خلیجی ممالک کے ساتھ برآمدات کے فروغ کے لیے قائم خصوصی کمیٹی نے 40 فوڈ آئٹمز کی برآمد کی منظوری دی ہے، جن میں چاول، خوردنی تیل، چینی، گوشت اور پولٹری، خشک دودھ اور ڈیری مصنوعات، پھل اور سبزیاں شامل ہیں۔
مزید بتایا گیا کہ برآمد کنندگان کا ڈیٹا بیس تیار کر لیا گیا ہے اور سبزیوں، پھلوں اور گوشت کی برآمد پر کوئی اضافی چارجز عائد نہیں کیے جائیں گے۔
برآمدات کے لیے اوپن روٹس اور کاروباری روابط
برآمدات کے لیے ہوائی اور بحری اوپن روٹس استعمال کیے جائیں گے۔ خلیجی ممالک کے ساتھ بزنس ٹو بزنس اجلاس اور ویبینارز منعقد کیے جا رہے ہیں۔
بندرگاہوں کی فعالیت اور سہولیات میں اضافہ
اجلاس میں بتایا گیا کہ کراچی اور بن قاسم کی بندرگاہیں عید الفطر کی تعطیلات میں بھی فعال رہیں۔ ٹرانس شپمنٹ بڑھانے کے لیے آف ڈاک ٹرمینلز کو اجازت دی گئی۔ کسٹمز قوانین میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں۔ بندرگاہوں پر نقل و حمل کے نرخ 60 فیصد تک کم کیے گئے۔
ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن ڈیسک قائم کر دیے گئے۔
یہ بھی پڑھیے مشرق وسطیٰ جنگ: اشرافیہ معاشی بوجھ برداشت کرکے مثال قائم کرے، وزیراعظم شہباز شریف
مزید یہ کہ خام تیل لانے والے بحری جہازوں کو بندرگاہوں پر ترجیحی بنیادوں پر لنگر انداز کیا جا رہا ہے۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر بحری امور چوہدری جنید انور اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔













