امریکا کے محکمہ دفاع نے مبینہ یو ایف اوز (اڑن طشتریوں) سے متعلق خفیہ سرکاری فائلوں کی دوسری کھیپ جاری کردی جس میں پراسرار سبز روشنی والے گولوں، ڈسک نما اشیا اور آگ کے گولوں کی رپورٹس شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پینٹاگون نے 80 برس پرانے راز افشا کردیے، اڑن طشتریوں سے متعلق خفیہ فائلیں بالاخر جاری
یہ دستاویزات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر جاری کی گئی ہیں۔ اس سے قبل پہلی کھیپ 8 مئی کو منظر عام پر لائی گئی تھی۔ امریکا میں نامعلوم فضائی اشیا سے متعلق سرکاری ریکارڈ عام کرنے کا سلسلہ سنہ 1970 کی دہائی کے آخر میں شروع ہوا تھا۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا تھا کہ ان دستاویزات، تصاویر اور ویڈیوز نے طویل عرصے سے عوامی تجسس اور قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہوا تھا۔ ان کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ امریکی عوام خود ان ریکارڈز کو دیکھیں۔
جمعے کو جاری کی گئی 222 فائلوں میں ایک اہم فائل 116 صفحات پر مشتمل ہے جس میں سنہ 1948 سے سنہ 1950 کے دوران نیو میکسیکو کے خفیہ فوجی مرکز سینڈیا میں رپورٹ ہونے والے پراسرار واقعات اور تحقیقات کی تفصیلات شامل ہیں۔
محکمہ دفاع کے مطابق اس فائل میں فوجی اڈے کے قریب ’سبز گولوں‘، ’ڈسک نما اشیا‘ اور ’آگ کے گولوں‘ کی 209 رپورٹس درج ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جاری کردہ مواد میں بعض نئی ویڈیوز اور واقعات شامل ہیں تاہم اب تک ایسی کوئی حتمی شہادت سامنے نہیں آئی جو خلائی مخلوق یا غیر زمینی ٹیکنالوجی کے وجود کو ثابت کرتی ہو۔
مزید پڑھیے: سمندر کی گہرائیوں میں خلائی مخلوق کی حکمرانی، امریکی بحریہ کے سابق افسر کا حیران کن دعویٰ
اس بار جاری کی گئی فائلوں میں بعض ایسی ویڈیوز اور رپورٹس بھی شامل ہیں جن میں امریکی فوجی اہلکاروں اور پائلٹس نے آسمان پر عجیب و غریب روشنیوں اور غیرمعمولی رفتار سے حرکت کرنے والی اشیا دیکھنے کا دعویٰ کیا ہے۔ بعض دستاویزات میں ’فٹبال نما‘ اڑتی ہوئی شے کا ذکر بھی موجود ہے جسے سنہ 2024 میں امریکی انڈو پیسیفک کمانڈ نے رپورٹ کیا تھا۔
— Department of War 🇺🇸 (@DeptofWar) May 22, 2026
رپورٹس کے مطابق نئی فائلوں میں اپولو مشنز سے متعلق کچھ آڈیو اور تصاویر بھی شامل ہیں جن میں خلا بازوں نے خلا میں ’روشنی کی پراسرار لکیر‘ دیکھنے کا ذکر کیا۔ بعض تصاویر میں چاند کے قریب مثلثی شکل میں روشن نقطے دکھائی دینے کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میں سے کئی مناظر کی سائنسی وضاحت ممکن ہے۔
امریکی حکومت نے یہ تمام ریکارڈ ایک نئے آن لائن پورٹل کے ذریعے جاری کیے ہیں جسے پریزیڈینشل اَن سیلنگ اینڈ رپورٹنگ سسٹم فار یو اے پی انکاؤنٹرز (پرسیو) کا نام دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: اڑن طشتری والی مخلوق کا تعلق کس سیارے سے ہے، انوکھا نقطہ نظر
حکام کا کہنا ہے کہ مزید خفیہ فائلیں بھی مرحلہ وار جاری کی جائیں گی تاہم اب تک کسی دستاویز میں خلائی مخلوق یا غیرزمینی ٹیکنالوجی کے واضح ثبوت سامنے نہیں آئے۔













