امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران پسِ پردہ امن مذاکرات میں شامل ہے، مگر اس کے نمائندے اپنے ہی عوام کے ردعمل کے خوف سے اس کا اعتراف نہیں کر رہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران معاہدہ کرنے کا خواہاں ہے لیکن کھل کر بات کرنے سے گریزاں ہے کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ اس کے اپنے لوگ اسے نشانہ بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی قیادت کو امریکا کی ممکنہ کارروائی کا بھی خوف ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات سے انکار کیا۔ ٹرمپ کے مطابق جاری تنازع میں ایران کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران، امریکا مذاکرات کے لیے پاکستان ہر لحاظ سے موزوں ہے، سابق سفیر جاوید ملک
انہوں نے داخلی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مخالف جماعت کے رہنما فوجی کارروائی کی کامیابیوں سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں، اور طنزیہ انداز میں کہا کہ وہ اسے ’جنگ‘ کے بجائے ’فوجی کارروائی‘ کہنا پسند کریں گے۔
دوسری جانب صدارتی دفتر نے عندیہ دیا ہے کہ اگر ایران نے پسپائی اختیار نہ کی تو سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں، جبکہ ایران کے سرکاری ذرائع کے مطابق تہران نے امریکا کے مجوزہ 15 نکاتی منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس منصوبے میں ایران کے جوہری پروگرام میں کمی، میزائلوں پر پابندی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور مسلح گروہوں کی حمایت محدود کرنے جیسے نکات شامل تھے۔
مزید پڑھیں:ایران نے شکست تسلیم نہ کی تو مزید سخت حملے کیے جائیں گے، امریکا کا انتباہ
رپورٹ کے مطابق یہ تجاویز پاکستان کے ذریعے ایران تک پہنچائی گئیں، جبکہ امریکی نمائندے سٹیو وٹیکوف (Steve Witkoff) نے دعویٰ کیا کہ ایران نے بعض اہم امور پر آمادگی ظاہر کی ہے، جن میں افزودہ یورینیم کے ذخائر میں کمی بھی شامل ہے۔
Speaking at a Republican fundraising dinner, President Trump said Iran is negotiating with the US but is “afraid to say it,” adding that its leaders fear they could be “killed by their own people” or by the US. pic.twitter.com/GGrqj8dmXH
— Al Jazeera Breaking News (@AJENews) March 26, 2026
امریکا ایران مذاکرات: نائب صدر جے ڈی وینس کو پاکستان یا ترکیہ بھیجنے کی قیاس آرائیاں
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو ممکنہ مذاکرات کے لیے جلد پاکستان یا ترکیہ بھیجا جا سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:ایران نے شکست تسلیم نہ کی تو مزید سخت حملے کیے جائیں گے، امریکا کا انتباہ
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی انتظامیہ ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہی ہے، اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کے اہم ارکان کو اس عمل میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
اطلاعات ہیں کہ ایران بعض امریکی نمائندوں کے بجائے جے ڈی وینس کے ساتھ بات چیت کو ترجیح دے سکتا ہے، جس کے باعث ان کا کردار نمایاں ہو گیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق ممکنہ مذاکرات کے لیے پاکستان اور ترکیہ کو ثالثی کے طور پر زیر غور لایا جا رہا ہے، جبکہ خطے کی صورتحال بدستور کشیدہ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دباؤ برقرار ہے۔
دوسری جانب امریکا کی جانب سے ایران کو ایک سفارتی منصوبہ بھی پیش کیا گیا ہے، جس پر ایران غور کر رہا ہے، تاہم ابھی تک کسی واضح پیش رفت کا اعلان سامنے نہیں آیا۔
یہ بھی پڑھیں:مشرق وسطیٰ کشیدگی: وزیراعظم شہباز شریف اور امیر قطر کی ٹیلیفونک گفتگو، رابطے میں رہنے پر اتفاق
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات ہوتے ہیں تو یہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی اہم کوشش ثابت ہو سکتے ہیں، لیکن حتمی فیصلہ دونوں ممالک کی قیادت کی منظوری سے مشروط ہوگا۔













