سری لنکا کی ایک جیل میں قیدیوں کے 2 گروہوں کے درمیان ہونے والے خونریز تصادم میں کم از کم 19 افراد ہلاک جبکہ 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔
حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 4 جیل اہلکار بھی شامل ہیں، یہ گزشتہ 5 برس سے زائد عرصے میں ملک کی کسی جیل میں پیش آنے والا بدترین ہنگامہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سری لنکا میں تاریخی ڈیجیٹل ڈکیتی، وزارت خزانہ آسٹریلیا کو لوٹانے والی رقم سے محروم
پولیس کے مطابق دارالحکومت کولمبو کے شمال میں واقع نیگومبو کی جیل میں اتوار کی شب 2 منشیات فروش گروہوں سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوئیں، جو بعد میں شدت اختیار کر گئیں۔
حکام نے بتایا کہ زخمی قیدیوں اور اہلکاروں کو فوری طور پر نیگومبو کے سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا، اسپتال کی ڈائریکٹر پشپا گملاتھ کے مطابق 19 لاشیں اسپتال لائی گئیں جبکہ 100 سے زائد زخمی زیرِ علاج ہیں، جن میں بعض افراد کو گولیاں بھی لگی ہیں۔
At least 19 people were killed and around 50 others injured after violent clashes erupted between rival inmate groups at a prison in Negombo, Sri Lanka.#violence #clash #prison #SriLanka pic.twitter.com/IXDdIFQvtN
— International Crisis Room 360 (@ICR360) July 6, 2026
پولیس کے مطابق نیگومبو جیل میں تقریباً 10 ہزار قیدی موجود ہیں، ہنگاموں پر قابو پانے کے لیے پولیس کمانڈوز کو طلب کیا گیا، تاہم انہیں جیل کے اندر تعینات نہیں کیا گیا۔
جیل کے باہر قیدیوں کے اہلِ خانہ کی بڑی تعداد جمع ہو گئی، جبکہ مقامی رہائشیوں نے فائرنگ کی آوازیں سننے کی اطلاع دی، صورتِ حال کی نگرانی کے لیے حکام نے ڈرون بھی استعمال کیے۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور سری لنکا کی مشترکہ انسدادِ دہشت گردی مشقیں ‘شیک ہینڈز ٹو’ اختتام پذیر
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ 4 جیل اہلکار ہنگامہ روکنے کی کوشش کے دوران ہلاک ہوئے، جبکہ پیر کی صبح صورتِ حال قابو سے باہر ہو گئی تھی۔
واضح رہے کہ دسمبر 2020 میں بھی سری لنکا کی ایک اور جیل میں ہنگاموں کے دوران 11 قیدی ہلاک اور 117 زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد حکومت نے کووڈ 19 وبا کے دوران جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کے باعث سینکڑوں قیدیوں کو رہا کر دیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اتوار تک سری لنکا کی جیلوں میں 41 ہزار 250 قیدی موجود تھے، جو ان کی مجموعی گنجائش سے تقریباً 4 گنا زیادہ ہیں۔












