لاہور میں ایک تشویشناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک ذہنی مریض مبینہ طور پر شادمان کے ایک اسپتال کی ایمبولینس چلا کر شاہدرہ اسپتال پہنچ گیا جس نے انتظامی غفلت پرسنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ واقعہ صبح تقریباً 5 بجے پیش آیا۔ مریض نے دفتر سے چابیاں لیں اور بلڈ بینک کی ایمبولینس چلا کر شاہدرہ اسپتال پہنچ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: گائے کی وہ چیز جو خطرناک مرض کا علاج اور سونے سے زیادہ مہنگی ہے
وہاں پہنچ کر مریض نے عملے سے کہا ’میرا خون لے لیں‘ جس پر عملہ حیران رہ گیا۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ وہ وہاں کیسے پہنچا تو اس نے جواب دیا کہ وہ خود گاڑی چلا کر آیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مریض 2022 سے ذہنی اسپتال میں داخل ہے۔ جس سے سیکیورٹی اور انتظامی امور میں کوتاہیوں کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اپارٹمنٹ کی کھڑکی کھلی چھوڑجانے والے شخص نے 3 سال بعد کیا دیکھا؟
واقعے کے بعد 4 رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ حکام نے 24 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
ذہنی اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ اگرچہ انکوائری کمیٹی قائم کر دی گئی ہے تاہم ذمہ داری بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی پر عائد ہوتی ہے کیونکہ اس کی ایمبولینسز کو اسپتال کے گیٹ پر نہیں روکا جاتا۔














