امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جاری ایران جنگ کے باعث چین کا اپنا طے شدہ دورہ کے لیے نئی تاریخوں کا اعلان کر دیا ہے۔ اب وہ 14 اور 15 مئی کو چین کا دورہ کریں گے، جہاں وہ چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔
امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر جاری شدہ اپنے بیان میں کہا کہ ان کا یہ دورہ بہت اہمیت کا حامل ہوگا اور وہ اس سال کے آخر میں صدر شی جن پنگ کو واشنگٹن کے دورے کی دعوت بھی دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے نمائندے ان تاریخی ملاقاتوں کی تیاریوں میں سرگرم عمل ہیں۔یہ دورہ پہلے اگلے ہفتے ہونا تھا، لیکن مشرق وسطی میں جاری جنگ کے باعث اسے موخر کر دیا گیا۔ ٹرمپ انتظامیہ ایک طرف خطے میں جنگی صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی ہے تو دوسری جانب چین کے ساتھ تعلقات کو بھی متوازن رکھنے کی کوشش کررہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں ڈونلڈ ٹرمپ کے 14 اور 15 مئی کو دورہ چین کا اعلان، صدر شی جن پنگ سے ملاقات طے
وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر شی جن پنگ نے دورے میں تاخیر کی وجوہات کو سمجھا ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ موجودہ حالات میں صدر ٹرمپ کی امریکا میں موجودگی ضروری ہے۔
دونوں عالمی طاقتوں کے سربراہان کے مابین یہ ملاقات اس ملاقات میں تجارت، زرعی مصنوعات اور طیارہ سازی کے شعبے میں تعاون پر بات چیت ہوگی، جبکہ تائیوان جیسے حساس معاملات بھی زیر بحث آئیں گے۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ اپنے موجودہ دور صدارت میں تائیوان کو اسلحے کی فروخت میں اضافہ کر چکے ہیں، جس پر چین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے امریکی صدر کی درخواست پر چینی صدر نے ڈونلڈ ٹرمپ کا فون سن لیا
دوسری طرف ایران کے ساتھ جاری جنگ نے بھی عالمی معیشت کو بھی متاثر کیا ہے اور اس کے اثرات اس ملاقات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
یہ دورہ 2017 کے بعد کسی بھی امریکی صدر کا چین کا پہلا دورہ ہوگا، جبکہ دونوں رہنماؤں کے درمیان آخری ملاقات گزشتہ سال اکتوبر میں جنوبی کوریا میں ہوئی تھی، جہاں تجارتی تنازع پر عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا۔














