نیتن یاہو کے سامنے ناچنے والے بھارتی وزیراعظم کو پاکستان سے متعلق بات کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے، پلوشہ خان

جمعرات 26 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پیپلزپارٹی کی سینیئر رہنما اور سینیٹر پلوشہ خان نے بھارتی وزیر خارجہ کے پاکستان سے متعلق نازیبا بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جس ملک کا وزیراعظم اسرائیلی قیادت کے سامنے جھک کر کھڑا ہو اور نیتن یاہو کے سامنے گھنگرو باندھ کر ناچتا ہو، وہ پاکستان کے کردار پر سوال اٹھانے کا اخلاقی جواز نہیں رکھتا۔ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن، مذاکرات اور ذمہ دار سفارتکاری کا مظاہرہ کیا ہے، جسے عالمی سطح پر تسلیم بھی کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: علیم خان کے ساتھ تلخی کیوں ہوئی؟ سینیٹر پلوشہ خان نے اصل وجہ بتا دی

وی نیوز کو خصوصی انٹرویو میں پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ بھارتی قیادت کی جانب سے استعمال کی جانے والی زبان ان کی اپنی سیاسی سوچ کی عکاسی کرتی ہے، تاہم انہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا پاکستان کے کردار کو ایک ذمہ دار اور مؤثر ریاست کے طور پر دیکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو القابات بھارت پاکستان کے لیے استعمال کر رہا ہے، وہ درحقیقت خود اس پر زیادہ صادق آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا موجودہ کردار نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم ہے بلکہ مسلم امہ کو قریب لانے کی کوششوں میں بھی نمایاں ہے۔ ان کے مطابق جنگ بندی اور سیزفائر جیسے اقدامات اسی سوچ کا تسلسل ہیں، جن کا مقصد تنازعات کو کم کرنا اور امن کو فروغ دینا ہے۔

پلوشہ خان کا مزید کہنا تھا کہ ہر مسلمان ملک کی ذمہ داری ہے کہ وہ آپس کے اختلافات کو کم کرے اور تصادم سے گریز کرے، کیونکہ مسلم دنیا کے اندرونی تنازعات پورے عالم اسلام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ موجودہ حالات میں مسلم ممالک باہمی اتحاد اور دانشمندی کا مظاہرہ کریں گے۔

مزید پڑھیں: ن لیگ پی پی کشیدگی: سینیٹر پلوشہ خان نے شہباز شریف اور مریم نواز کو نشانے پر رکھ لیا

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان اس ضمن میں کوئی مثبت کردار ادا کر رہا ہے یا کر سکتا ہے تو یہ نہ صرف خوش آئند ہے بلکہ قابل ستائش بھی ہے، اور عالمی برادری کو بھی ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp