برازیل سے تعلق رکھنے والی 27 سالہ سوشل میڈیا انفلوئنسر موننیکی فراگا کو اپنے اغوا کا ڈرامہ رچانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ اقدام مبینہ طور پر سوشل میڈیا پر شہرت اور فالوورز میں اضافہ حاصل کرنے کے لیے کیا گیا۔
پولیس نے منگل کے روز فراگا کو حراست میں لیا جبکہ یہ واقعہ تقریباً ایک سال قبل پیش آیا تھا جب اس نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر دعویٰ کیا تھا کہ اسے اور اس کے شوہر کو مسلح افراد نے اغوا کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: معروف ٹک ٹاکر ٹریفک حادثے میں جاں بحق
اپریل گزشتہ سال جاری کی گئی ایک ویڈیو میں فراگا نے روتے ہوئے بتایا تھا کہ اسے اور اس کے شوہر لوکاس کو برازیل کے شہر ایگاراسو میں ان کے گھر کے باہر سے اغوا کیا گیا۔
اس کے مطابق تین مسلح افراد نے انہیں جنگل میں لے جا کر کئی گھنٹوں تک یرغمال بنائے رکھا اور 100,000 برازیلین ریئل تاوان طلب کیا جس میں سے کچھ رقم ادا کیے جانے کے بعد انہیں رہا کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں ٹک ٹاکر مبینہ طور پر شوہر کے ہاتھوں قتل
فراگا نے ویڈیو میں دعویٰ کیا تھا کہ اغوا کاروں نے اس کے شوہر کو تشدد کا نشانہ بنایا اور وہ اس کی سوشل میڈیا پر دکھائی گئی قیمتی اشیاء، خصوصاً سونے کی چینز کے پیچھے تھے۔
تاہم بعد ازاں ہونے والی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ یہ مبینہ اغوا دراصل ایک منظم منصوبہ تھا۔ تفتیشی افسر کے مطابق شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ فراگا نہ صرف اس منصوبے سے آگاہ تھی بلکہ اس نے مبینہ ملزمان کے ساتھ پیشگی منصوبہ بندی بھی کی اور واقعے کے بعد ان سے رابطے میں رہی۔
یہ بھی پڑھیں: معروف ٹک ٹاکر کاشف ضمیر کا قیمتی سونا جعلی نکلا، 10 لاکھ روپے بھی ہار گئے
پولیس کا کہنا ہے کہ اس ڈرامے میں کم از کم تین افراد ملوث تھے۔ ایک ملزم پہلے ہی کسی اور مقدمے میں جیل میں ہے، دوسرا ہلاک ہو چکا ہے جبکہ تیسرے مشتبہ شخص کے گھر کی تلاشی لی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق فراگا کا شوہر جسے واقعے کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اس منصوبے سے مکمل طور پر بے خبر تھا اور وہ اسے ایک حقیقی اغوا ہی سمجھتا رہا۔ اس نے مسلسل اپنی لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: معروف ٹک ٹاکر پیاری مریم زچگی کے دوران انتقال کر گئیں
دوسری جانب، موننیکی فراگا نے اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کی ہے اور وہ پولیس حراست سے رہائی کے لیے قانونی کوششیں کر رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اسے اپنے کم عمر بچوں کی دیکھ بھال کرنی ہے۔
حکام کے مطابق مقدمے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور آئندہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔













