سپریم کورٹ آف پاکستان نے انصاف تک رسائی کو مؤثر، قابل اعتماد اور بلا تعطل بنانے کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی سماعتیں اور جدید کیس مینجمنٹ کے اقدامات شروع کردیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عدالتی اصلاحات کے سلسلے میں اہم سنگ میل، نیشنل جوڈیشل اینالیٹکس ڈیش بورڈ کا باضابطہ اجرا
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق مختلف شہروں کے وکلا اور سائلین کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونے کی سہولت دی جارہی ہے، جس سے دور دراز علاقوں کے سائلین کے سفر اور اخراجات میں کمی آئے گی، 24 مارچ کو ہونے والی سماعت میں کوئٹہ، حیدرآباد اور کراچی سے وکلا ویڈیو لنک پر پیش ہوئے۔
یہ اقدام لا اینڈ جسٹس کمیشن کے اصلاحاتی فریم ورک کا حصہ ہے، جس میں ہائیکورٹ کی رجسٹریوں میں سپریم کورٹ برانچ نہ ہونے کی صورت میں ٹیکنالوجی کے ذریعے رابطہ بڑھایا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا سال نو کے دوران عدالتی اصلاحات کا اعلان
پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی کفایت شعاری اور توانائی بچت کی پالیسی کے تحت کیس مینجمنٹ میں بہتری لائی گئی ہے، اور ہفتہ وار کام کے دن 5 سے کم کر کے 4 کردیے گئے ہیں۔ کیسز کی شیڈولنگ اس طرح کی گئی ہے کہ سائلین کو بروقت سماعت مل سکے۔
سپریم کورٹ کے مطابق ڈیجیٹل سہولیات اور بہتر شیڈولنگ کے امتزاج سے عدالتی نظام پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا اور انصاف تک رسائی مزید آسان اور مؤثر بنائی جائے گی۔












