ٹرمپ کے پراپرٹی ڈیلر

جمعرات 26 مارچ 2026
author image

رعایت اللہ فاروقی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ہماری اس دنیا میں جو اعمال کسی کے لیے بھی بے حد احترام کا باعث بنتے ہیں ان میں مصالحت کاری سرفہرست ہے۔ ہم اس کے نظائر معاشرتی سطح پر بھی دیکھتے ہیں اور اس عالمی برادری میں بھی جہاں ہر ریاست گویا ایک فرد کی حیثیت سے مجسم ہوتی ہے۔ مثلاً حالیہ سالوں میں اس حوالے سے قطر خاصا نمایاں ہوا ہے۔ اس نے جو بائیڈن دور میں ایرانی و امریکی قیدیوں کے تبادلے میں اپنی مصالحت کاری پوری کامیابی سے نبھائی تھی۔ اس مصالحت کاری میں امریکا اور ایران دونوں کے 5-5 قیدیوں کا بھی تبادلہ ہوا تھا اور ایران نے جنوبی کوریا میں منجمد اپنے 6 ارب ڈالر بھی یوں وصول کیے تھے کہ یہ رقم قطری بینکوں میں شفٹ ہوئی اور ان کے عوض ایران نے خوراک اور ادویات وغیرہ وصول کیں۔ اسی طرح قطر نے یوکرین جنگ کے دوران بھی روس اور یوکرین کے جنگی قیدیوں کے تبادلے میں تعمیری کردار ادا کر رکھا ہے۔

مگر جہاں معاملے کے ایک فریق موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہوں، وہاں مصالحت کاری خود مصالحت کار کے لیے دو دھاری تلوار بن جاتی ہے۔ کیونکہ مصالحت کاری میں لین دین ہوتا ہے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ بس لین ہی لین پر یقین رکھتے ہیں۔ اور لین کے معاملے میں ڈونلڈ ٹرمپ اتنے متشدّد واقع ہوئے ہیں کہ کسی پس پردہ ساز باز کے بھی چکر میں نہیں پڑتے، سیدھا عالمی میڈیا پر کہہ دیتے ہیں

’لاؤ نوبیل پیس پرائز دے کر مابدولت کے امن پسند صدر ہونے کی تصدیق کرو‘۔

اور اگر ان کے امن پسندی والے ڈرامے پر یقین نہ کیا جائے تو پھر ان کی دھونس دھمکی اور تذلیل گلی کے غنڈوں والے لیول تک پہنچ جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بین المذاہب ہم آہنگی اور ابراہیمی معاہدہ

یہ تو تھا وہ معاملہ جہاں ڈونلڈ ٹرمپ کو کسی مقابلے کا سامنا ہی نہ تھا۔ اب ذرا ایک نظر ان امور پر ڈال لیجیے جہاں ڈونلڈ ٹرمپ ایک فریق تھے۔  ہمارے ہاں شاید بہت کم لوگ جانتے ہوں کہ وینزویلا کے معاملے میں بھی قطر پس پردہ مصالحت کی کوششیں کر رہا تھا۔ ابھی یہ کوششیں جاری تھیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق صدر مادورو کو اغوا کروا لیا اور قطری حکام ششدر رہ گئے۔ صرف اتنا ہی نہیں کہ مادورو اغوا کر لیے گئے بلکہ بعض بڑے میڈیا ہاؤسز کے ذریعے یہ فیک نیوز بھی چلوا دی گئی کہ وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی راڈریگاز قطری حکام کے ذریعے امریکا سے ساز باز کر رہی تھیں اور اسی ساز باز کے نتیجے میں صدر مادورو کا ’سودا‘ طے پایا۔ سودا طے پایا کہ نہیں اسے ایک طرف رکھ کر بس یہ دیکھیے کہ کیا امریکا اور وینزویلا کا تنازع کسی لین دین پر منتج ہوا؟ نہیں، ٹرمپ نے مادورو کے اغوا کی صورت میں صرف لین ہی لین کو یقینی بنایا۔

دوسرا معاملہ امریکا اور ایران کے بیچ  گزشتہ برس مئی جون میں پیش آیا۔ جہاں عمان مصالحت کار کا کردار ادا کر رہا تھا۔ ابھی مذاکراتی عمل جاری تھا، شیڈول کے مطابق ویک اینڈ کے اختتام کے عین اگلے روز مذاکرات کا اگلا دور ہونا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملہ ہوگیا۔ اگر آپ یاد کیجیے تو صدر ٹرمپ نے اسرائیلی حملے سے ایک روز قبل امریکی شہریوں کو مشرق وسطیٰ چھوڑنے کی ایڈوائزری جاری کردی تھی۔ جس سے واضح تھا کہ وہ حملہ امریکی آشیرباد سے ہی ہوا۔ اسرائیل کی بری طرح ٹھکائی کے بعد یہ ٹرمپ ہی تھے جو اسے بچانے آگے آئے مگر کوئی باقاعدہ نوعیت کی جنگ بندی نہ ہوئی۔ یہ کھڑکی کھلی ہی اس مقصد کے لیے رکھی گئی کہ اگلا حملہ پوری تیاری کے ساتھ کیا جائے۔

کئی ماہ کی تیاری کے بعد جب اگلے حملے کا فیصلہ ہوا تو اس کے لیے حکمت عملی کیا اختیار کی گئی؟ یہی کہ پچھلے مصالحت کار عمان کو ایک بار پھر مذاکرات والے ڈرامے پر آمادہ کیا گیا۔ ایک ایسا ڈراما جس میں مصالحت کار اس بات سے بالکل ہی بے خبر رہا کہ اسے محض استعمال کیا جارہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اگلے روز ہی واضح کیا ہے کہ جب گزشتہ ماہ ہمیں مذاکرات کا کہا گیا تو ہم نے عمان کے ذریعے امریکی نمائندوں کو یہی پیغام بھیجا کہ آپ پچھلی بار مذاکرات کی آڑ میں حملہ کرچکے ہیں، ہم دوبارہ بھروسہ کیوں کریں؟ تو اس پر امریکی ٹیم یعنی اسٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر نے جواب دیا کہ پچھلی باتیں بھول جائیں، اس بار ہم سنجیدہ ہیں اور تنازع کا پر امن حل چاہتے ہیں۔ لیکن ہوا کیا؟ وہی جو پچھلی بار ہوا تھا۔ ایک بار پھر عین مذاکراتی عمل کے دوران ایران پر حملہ ہوا، اور اس کے رہبر کو شہید کردیا گیا۔

لگے ہاتھوں ایک تیسرا معاملہ بھی دیکھ لیجیے۔ یوکرین جنگ میں امریکا اور روس فی الحقیقت فریق ہیں۔ لیکن جب صدر ٹرمپ اقتدار میں آئے تو انہوں نے بغیر کسی مصالحت کار کے ہی روس سے براہ راست بات چیت شروع کردی۔ لیکن ایک روز اچانک ہی ٹرمپ نے  یہ مؤقف اختیار کرلیا کہ امریکا تو فریق ہی نہیں بلکہ مصالحت کار ہے، روس کے مقابل فریق تو یوکرین ہے۔ یعنی یوکرین کو ہتھیار، فنڈز اور انٹیلیجنس  ڈیٹا فراہم کرنے والا امریکا یکایک مصالحت کار بن گیا۔ روسی صدر پیوٹن نے 5 امریکی صدر بھگتا رکھے ہیں۔ وہ جی ہی جی میں مسکرائے ضرور ہوں گے، مگر وہ ٹرمپ کی مصالحت کاری کے دعوے پر اعتراض کیے بغیر ان سے کھیلنے لگے۔ مصالحت کار ٹرمپ نے اپنے نمائندوں کے ذریعے  ایک ہی رٹا لگائے رکھا کہ بھئی امن کا آغاز تو فوری سیز فائر سے ہی ہوسکتا ہے، للہ! سیز فائر کیجیے تاکہ امن کی جانب بڑی پیشرفت ہوسکے۔ لیکن پیوٹن نے ہر بار گویا یہی جواب دیا

’دل چیز کیا ہے، آپ میری جان لیجیے، مگر سیز فائر نہیں ملے گا‘۔

یہاں تک کہ نوبت آگئی انکرچ میں دونوں رہنماؤں نے بیچ روبرو ملاقات کی۔ اس ملاقات کے نتیجے میں پریس کانفرنس کے دوران صدر پیوٹن نے ٹرمپ ہی سے اعلان کروا دیا کہ سیز فائر نہیں ہوگا بلکہ سیدھا امن کی جانب پیشرفت ہوگی، اور طے پایا کہ دونوں صدور کے مابین جلد اگلی ملاقات ہوگی۔ لیکن جب اگلی ملاقات کا مرحلہ آیا تو مصالحت کار ٹرمپ دوسری ملاقات سے ہی مکر گئے اور ایک بار پھر سیز فائر والا منترا دہرانے لگے۔  کیوں؟ کیونکہ ٹرمپ سیز فائر کو  مزید جنگی تیاری کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ایران کے کیس میں یہ واردات پوری دنیا دیکھ چکی۔ ویلادیمیر پیوٹن جین زی کا لیڈر نہیں، وہ سوویت دور کی کے جی بی کے سابق افسر اور لگ بھگ 25 برس سے روس کے لیڈر ہیں۔ لیڈر بھی ایسے جن کے بارے میں خود امریکا کے سیاسی مفکرین کا دعویٰ ہے کہ وہ رشین ہسٹری کے اہم ترین لیڈر کے طور تاریخ کا حصہ بنیں گے۔ سو ٹرمپ ان کے آگے ویسے ہی بے بس ہیں جیسے کوئی بونا کسی پہلوان کے آگے ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:توانائی کا ممکنہ عالمی بحران اور اس سے بچت کی صورت

اب آیے اس مسئلے کی جانب جس کے لیے یہ پورا بیک گراؤنڈ پیش کرنا از حد ضروری تھا۔ خبر آئی ہے کہ اچانک ہی پاکستان نے ایران امریکا تنازع میں مصالحت کار بننے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ سن کر ہماری پریشانی بڑھ گئی، کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے سفارتکاری ایک بھونڈے مذاق سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ جس کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا کہ ان کے دونوں مذاکرات کار سیاست اور سفارتکاری کا نل بٹا نل تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ سفارتکار نہیں پراپرٹی ڈیلر ہیں۔ یعنی زیادہ سے زیادہ ملک ریاض کے مطلب کے لوگ۔ ان دونوں کو ٹرمپ استعمال ہی فریب کے لیے کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کریڈٹ پر کسی سفارتی کامیابی کا نام نشان تک موجود نہیں۔

 آپ معاملے کی نزاکت کا اندازہ یہیں سے لگا لیجیے کہ مصالحت کاری کے چیمپئن قطر نے ہی اعلانیہ ہاتھ کھڑے کردیے ہیں کہ وہ ایران اور امریکا کے بیچ مصالحت کار بننے کے لیے تیار نہیں۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ یہ دامن بچاؤ حکمت عملی قطری ایران کی وجہ سے اختیار کر رہے ہیں تو ایسا ہرگز نہیں۔ قطری وینزویلا والے کیس میں ٹرمپ اور ان کے پراپرٹی ڈیلروں کو بھگت چکے۔ سو وہ اس سوراخ سے دوسری بار خود کو ڈسوانے کو بالکل تیار نہیں۔ بہ الفاظ دیگر وہ خود کو مومن ثابت کرنے کا پکا تہیہ کیے بیٹھے ہیں۔

 مشکل یہ ہے کہ کچھ باتیں کھل کر نہیں کی جاسکتیں، سو اشارتاً عرض ہے کہ ماضی قریب کے ہمارے جس اہم ترین اقدام پر اصولی طور پر ٹرمپ اور نتین یاہو کو پریشان ہونا چاہیے تھا، وہ حیران کن طور پر اس پر بہت خوش تھے۔ تب ہم باوجود کوشش کے اس کی وجہ سمجھ نہیں پائے تھے۔ لیکن اب کچھ کچھ سمجھ آنے لگا ہے، اور اس کے باوجود دعا ہماری یہی ہے کہ جو سمجھ آنے لگا ہے وہ سراسر غلط ہی ہو۔ مگر صرف دعاؤں سے کام کہاں چلتا ہے؟ لہٰذا  پلیز احتیاط اور وہ بھی شدید احتیاط! کیونکہ اگر ہمیں اسرائیلی کیمپ میں دھکیل دیا گیا تو یہ سانحے سے بھی آگے کی چیز ہوگی۔ بات فقط اتنی سی نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ ناقابل اعتبار ہیں بلکہ ایک مستقل درد سر یہ بھی ہیں کہ جن کے مابین آپ مصالحت کرانے نکلے ہیں ان میں سے ایک فریق پورے کا پورا صہیونی ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘