امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی حالیہ گفتگو میں پاکستانی پرچم والے تیل بردار جہازوں کا ذکر کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کئی بڑے آئل ٹینکرز ایک ’تحفے‘ کے طور پر بھیجے گئے، جبکہ دوسری جانب پاکستان کو خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک اہم سفارتی ثالث کے طور پر بھی سامنے لایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران مذاکرات میں بے یقینی، برینٹ آئل کی قیمتیں 5 فیصد بڑھ گئیں
ڈونلڈ ٹرمپ نے گفتگو کے دوران بتایا کہ انہیں پہلے ہی ایک ’تحفے‘ کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا، جس کے تحت 8 بڑے تیل بردار جہاز بھیجے گئے۔ ان کے مطابق یہ جہاز آبنائے ہرمز کے وسط سے گزر رہے تھے اور مکمل طور پر تیل سے لدے ہوئے تھے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر انہوں نے اس بات کو زیادہ اہمیت نہیں دی، تاہم بعد ازاں میڈیا رپورٹس میں جب ان جہازوں کا ذکر سامنے آیا تو انہیں یقین ہوا کہ واقعی ایسا ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان ٹینکرز پر ممکنہ طور پر پاکستانی پرچم لگا ہوا تھا، جس پر انہوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے ہم صحیح لوگوں کے ساتھ معاملہ کر رہے ہیں۔
Those who were saying Pakistan was just a messenger, listen Steve Witkof, who confirmed Pakistan is acting as "mediator" between Iran & the US. pic.twitter.com/hJ9auU7nuh
— Kamran Yousaf (@Kamran_Yousaf) March 26, 2026
انہوں نے مزید بتایا کہ بعد میں مزید 2 جہاز بھی بھیجنے کی بات کی گئی، جس کے بعد مجموعی تعداد 10 تک پہنچ گئی۔ ٹرمپ نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ انہیں امید ہے کہ اس انکشاف سے جاری مذاکرات پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا، تاہم انہوں نے اسے مناسب سمجھا کہ اس ’تحفے‘ کا ذکر کیا جائے۔
پاکستان کا سفارتی کردار اور امن منصوبہ
دوسری جانب امریکی حکام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے پس منظر میں مختلف ممالک کی جانب سے تنازع کے پرامن حل کے لیے رابطے کیے گئے ہیں۔ اس حوالے سے ایک 15 نکاتی ایکشن پلان تیار کیا گیا ہے، جو ممکنہ امن معاہدے کا بنیادی فریم ورک قرار دیا جا رہا ہے۔
بیان کے مطابق یہ منصوبہ پاکستانی حکومت کے ذریعے، بطور ثالث، متعلقہ فریقین تک پہنچایا گیا، جس کے نتیجے میں مثبت اور تعمیری پیغامات اور مذاکرات کا آغاز ہوا ہے۔ تاہم ان حساس سفارتی بات چیت کی تفصیلات کو خفیہ رکھا جا رہا ہے اور میڈیا کے ذریعے مذاکرات کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران نے جلد سنجیدگی نہ دکھائی تو واپسی ممکن نہیں ہوگی، صدر ٹرمپ کی پھر دھمکی
حکام کا کہنا ہے کہ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا ایران کو اس بات پر قائل کیا جا سکتا ہے کہ موجودہ صورتحال ایک اہم موڑ ہے، جہاں مزید کشیدگی کے بجائے پرامن حل ہی واحد راستہ ہے، بصورت دیگر خطے کو مزید جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔












