اورنگی ٹاؤن: جہاں ’غلافِ کعبہ‘ تیار ہوتا تھا

جمعہ 27 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایک دور وہ تھا جب کراچی کے گنجان آباد علاقے اورنگی ٹاؤن کی پہچان صرف وہاں کی آبادی یا مسائل نہیں تھے، بلکہ اس کی گلیوں سے اٹھنے والی ریشم اور زری کے کام کی خوشبو اور وہ ہنرمند ہاتھ تھے جنہیں ’غلافِ کعبہ‘کی تیاری کا شرف حاصل تھا۔

تاریخی پس منظر

قیامِ پاکستان کے بعد خاص طور پر 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات انتہائی والہانہ تھے۔ اس وقت تک غلافِ کعبہ کی تیاری کے لیے مکہ مکرمہ میں وہ جدید اور مستقل کارخانہ موجود نہیں تھا جو آج ’ام الجود‘ کے نام سے مشہور ہے۔ ان دنوں سعودی حکومت غلاف کی تیاری کے لیے دنیا کے بہترین ہنرمندوں کا انتخاب کرتی تھی، اور یہ قرعہ پاکستان کے شہر کراچی کے نام نکلا۔

اورنگی ٹاؤن کا انتخاب کیوں؟

اورنگی ٹاؤن میں قیامِ پاکستان کے بعد ہجرت کر کے آنے والے ایسے کاریگروں کی بڑی تعداد آباد تھی جو بنارس (بھارت) سے آئے تھے۔ یہ لوگ صدیوں سے ریشم، زری، اور کڑھائی کے کام میں عالمی شہرت رکھتے تھے۔

مخصوص ورکشاپ

اورنگی ٹاؤن کے ایک مخصوص حصے میں غلافِ کعبہ کی تیاری کے لیے خصوصی لومز لگائی گئی تھیں۔ اس کی تیاری میں خالص ریشم، چاندی کے تاروں اور سونے کی ملمع کاری کا استعمال کیا جاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جب یہ کاریگر غلاف کی بنائی یا اس پر قرآنی آیات کی کڑھائی کرتے تھے، تو وہ باوضو ہوتے تھے اور تلاوت قرآن و درود پاک کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔

تکمیل اور روانگی

جب غلافِ کعبہ تیار ہو جاتا، تو اسے ایک پروقار تقریب کے ساتھ کراچی سے سعودی عرب روانہ کیا جاتا تھا۔ اس موقع پر پورے کراچی میں خوشی کا سماں ہوتا اور لوگ اس متبرک کپڑے کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے میلوں سے پیدل چل کر آتے تھے۔

یہ سلسلہ کب ختم ہوا؟

1960 کی دہائی کے اواخر اور 1970 کی دہائی کے آغاز میں، سعودی عرب کے اس وقت کے فرمانروا شاہ فیصل بن عبدالعزیز نے غلافِ کعبہ کی مکہ مکرمہ میں مستقل تیاری کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے مکہ میں ’کسوہ فیکٹری‘ قائم کی تاکہ یہ مقدس کام مستقل طور پر حرمین الشریفین کے سائے تلے انجام پائے۔

آج بھی اورنگی ٹاؤن کے پرانے بزرگ ان دنوں کو فخر سے یاد کرتے ہیں جب ان کے محلے کی گلیوں سے گزرنے والا دھاگہ خانہ کعبہ کی زینت بنتا تھا۔ یہ تاریخ کا وہ سنہرا باب ہے جو پاکستان اور حجازِ مقدس کے درمیان محبت کے گہرے رشتے کی گواہی دیتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایلون مسک کی ٹیکنالوجی پھر میدان میں، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ سے قربت سوشل میڈیا پر زیر بحث

ملک کے کسی بھی حصے سے کسی کو قومی پرچم اتارنے کی اجازت نہیں دیں گے، دہشتگردی کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی، بلاول بھٹو

بابر اعظم کا بین الاقوامی کرکٹ میں اہم سنگ میل، 16 ہزار رنز مکمل کرنے والے پانچویں پاکستانی بلے باز بن گئے

پاکستان میں خواتین کے تاریخی بین الاقوامی ٹینس ٹورنامنٹ کا انعقاد، امریکی سفارت کار نٹیلی بیکر کی تعریف

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے لائیواسٹاک کارڈ فیز 2 کا افتتاح کر دیا

ویڈیو

غریب کا ذہین بچہ بھی ڈاکٹر بن سکتا ہے، دانش اسکول امیر اور غریب کے درمیان تعلیمی فرق ختم کرنے کی کوشش ہے، شہباز شریف

20 لاکھ بیرل سے زائد تیل لے جانے والے جہاز میں دھماکا، ایران کا بارودی سرنگ سے ٹکرانے کا دعویٰ

سکھر میں کاٹن فیکٹری کی گرد سے شہری پریشان، سندھ حکومت کی کارکردگی پر سوالات

کالم / تجزیہ

مولانا، معدنیات اور ایمر جنسی

پشاور میں چھت نہیں، حکومتی نظام گرا ہے

دو قومیں، دو نسلیں