پاکستان میں پہلی بار خواتین کے ڈبلیو 15 سطح کے بین الاقوامی ٹینس ٹورنامنٹ کے انعقاد کو امریکی ناظم الامور نٹیلی بیکر نے تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مقابلے نہ صرف خواتین کے کھیلوں کے فروغ کے لیے اہم ہیں بلکہ کھیلوں کے ذریعے سفارت کاری اور بین الاقوامی تعلقات کو مضبوط بنانے کا بھی بہترین موقع فراہم کرتے ہیں۔
اسلام آباد میں ہفتے کے روز جنید فیملی فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام خواتین کے عالمی ٹینس ڈبلیو 15 فیوچرز ٹورنامنٹ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نٹیلی بیکر نے منتظمین کو کامیاب انعقاد پر مبارکباد دی۔ ٹورنامنٹ میں 17 ممالک اور خطوں سے تعلق رکھنے والی 30 خواتین کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔

امریکی ناظم الامور نٹیلی بیکر نے کہاکہ انہیں یہ جان کر خصوصی خوشی ہوئی کہ پاکستان میں اس سطح کا خواتین کا بین الاقوامی ٹینس ٹورنامنٹ پہلی مرتبہ منعقد کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ واقعی ایک تاریخی سنگ میل ہے اور اس کامیابی کو ممکن بنانے والے تمام افراد کو اپنی کوششوں پر فخر ہونا چاہیے۔
کھیلوں کے ذریعے ممالک اور عوام کے درمیان تعلقات مضبوط ہوتے ہیں، نٹیلی بیکر
امریکی ناظم الامور نے کہاکہ امریکا کھیلوں کی اس طاقت پر یقین رکھتا ہے جو ٹیم ورک، مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت اور مختلف ممالک کے عوام کے درمیان روابط قائم کرنے کا درس دیتی ہے۔
ان کے مطابق کھیلوں کے ذریعے قائم ہونے والے تعلقات مقابلوں کے اختتام کے بعد بھی طویل عرصے تک برقرار رہتے ہیں۔
نٹیلی بیکر نے کہاکہ کھیلوں کے ذریعے سفارت کاری امریکا کی بین الاقوامی سرگرمیوں کا ایک اہم حصہ رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں مزید پاکستانی کھلاڑی بڑے بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں میں حصہ لیں گے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا 2028 میں لاس اینجلس میں ہونے والے موسم گرما کے اولمپکس اور پیرا اولمپکس کی میزبانی کی تیاری کررہا ہے اور وہ عالمی سطح پر مزید پاکستانی کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔
امریکی سفارت کار نے کہاکہ ٹورنامنٹ میں شریک غیر ملکی کھلاڑیوں کو نہ صرف اعلیٰ معیار کے ٹینس مقابلوں اور کھیل کے مثبت جذبے کا تجربہ ہوا بلکہ انہوں نے پاکستانی مہمان نوازی سے بھی لطف اٹھایا۔
انہوں نے پاکستان ٹینس فیڈریشن کے صدر اعصام الحق قریشی، عنصر جنید، صوفیہ جنید اور پاکستان ٹینس فیڈریشن کا چیمپیئن شپ کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا۔
نٹیلی بیکر نے 2010 کے یو ایس اوپن میں اعصام الحق قریشی کی تاریخی کارکردگی کو بھی خراج تحسین پیش کیا، جب وہ ڈبلز مقابلوں کے 2 فائنلز تک پہنچے اور کسی گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ کے فائنل میں شرکت کرنے والے پہلے پاکستانی ٹینس کھلاڑی بنے۔
انہوں نے پاکستان میں ٹینس کھلاڑیوں کی نئی نسل کے لیے مواقع پیدا کرنے کی اعصام الحق قریشی کی مسلسل کوششوں کو بھی سراہا۔
خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے جنید فیملی فاؤنڈیشن کی خدمات کی تعریف
نٹیلی بیکر نے پاکستانی نژاد امریکی جوڑے عنصر جنید اور صوفیہ جنید کا بھی شکریہ ادا کیا، جو کھیلوں اور صحت کے شعبوں میں مختلف اقدامات کے ذریعے پاکستان اور امریکا کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ عنصر جنید اور صوفیہ جنید کی مشترکہ سربراہی میں کام کرنے والی جنید فیملی فاؤنڈیشن نے اس چیمپیئن شپ کی معاونت کی، جو پاکستان بھر میں خواتین کو بااختیار بنانے، زچہ و بچہ کی صحت، تعلیم اور نوجوان خواتین کے لیے مواقع فراہم کرنے کے وسیع تر عزم کا حصہ ہے۔
فرانسیسی کھلاڑی نے سنگلز جبکہ چین اور تھائی لینڈ کی جوڑی نے ڈبلز ٹائٹل جیت لیا
ٹورنامنٹ میں فرانس کی ٹینس کھلاڑی آسٹرڈ سیروٹ نے خواتین کے سنگلز مقابلوں میں چیمپیئن شپ اپنے نام کی۔
خواتین کے ڈبلز مقابلوں میں چین کی رو شی وو اور تھائی لینڈ کی کامونوان یوڈپیچ نے مشترکہ طور پر ٹائٹل جیتا۔
اختتامی تقریب میں امریکی ناظم الامور نٹیلی بیکر نے عنصر جنید اور صوفیہ جنید کے ہمراہ کامیاب کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے۔
یہ ٹورنامنٹ محض ٹینس مقابلوں سے کہیں بڑھ کر تھا، عنصر جنید
ٹورنامنٹ کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے عنصر جنید نے کہاکہ اس ایونٹ نے ثابت کیا ہے کہ بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلے نوجوان خواتین کے لیے تحریک کا ذریعہ بن سکتے ہیں، جبکہ ان کے ذریعے پالیسی سازوں، فلاحی شخصیات اور ترقیاتی شراکت داروں کو بھی ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جا سکتا ہے۔
عنصر جنید نے کہاکہ اس ہفتے جو کچھ دیکھنے کو ملا، وہ محض ٹینس کے مقابلوں سے کہیں بڑھ کر تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے باصلاحیت کھلاڑیوں کو اعلیٰ سطح پر مقابلہ کرتے دیکھا، نوجوانوں کو یہ احساس ہوتا دیکھا کہ ان کے لیے کیا کچھ ممکن ہے اور رہنماؤں کو یہ سمجھتے دیکھا کہ مشترکہ کوششوں سے مزید کتنے بڑے اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
عنصر جنید نے کہا کہ پاکستان ان کے لیے ذاتی طور پر بہت اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا، ایسے خیالات میں سرمایہ کاری کرنا جو مثبت تبدیلی پیدا کر سکتے ہیں اور پھر ان کوششوں کو آگے بڑھتے دیکھنا ان کے لیے بے حد معنی رکھتا ہے۔
صحت، تعلیم اور کھیلوں میں سرمایہ کاری دیرپا سماجی تبدیلی کا ذریعہ ہے، صوفیہ جنید
اس موقع پر صوفیہ جنید نے کہا کہ جنید فیملی فاؤنڈیشن خواتین کی صحت، تعلیم اور کھیلوں کے مواقع میں سرمایہ کاری کو ایک دوسرے سے منسلک کوششوں کے طور پر دیکھتی ہے، جن کا مقصد معاشرے میں دیرپا مثبت تبدیلی لانا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ تمام کوششیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔

صوفیہ جنید کے مطابق ایک صحت مند حمل بچے کو زندگی کا بہتر آغاز فراہم کر سکتا ہے، تعلیم ترقی کے نئے دروازے کھول سکتی ہے اور بین الاقوامی سطح پر کھلاڑیوں کو مقابلہ کرتے دیکھ کر کوئی کم عمر لڑکی ایسے مستقبل کا خواب دیکھ سکتی ہے جس کے بارے میں اس نے پہلے کبھی سوچا بھی نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ جنید فیملی فاؤنڈیشن ایسے ہی مواقع اور لمحات میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے جو کسی انسان کی زندگی بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔











