ایران کے پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد خام تیل لے جانے والے ایک بڑے جہاز میں دھماکا ہوا اور آگ لگ گئی۔ جہاز میں 20 لاکھ بیرل سے زائد خام تیل موجود تھا، تاہم حکام نے جہاز کی شناخت اور واقعے کے مقام کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔
ترک نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی ورلڈ کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے ہفتے کو بتایا کہ جہاز مبینہ طور پر ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ایرانی حکام کا الزام ہے کہ جہاز نے امریکی حمایت سے گزرنے کے لیے اپنے تمام نگرانی کے نظام بند کردیے تھے۔ پاسداران انقلاب نے رات کے وقت آگ میں گھرے ایک جہاز کی ویڈیو بھی جاری کی ہے۔
🇮🇷Iran’s IRGC Navy says a supertanker carrying over 2 million barrels of crude struck a mine in the Strait of Hormuz and caught fire. Footage attributed to the incident reportedly shows oil leaking into the sea. pic.twitter.com/Ra94nkRp23
— Gölge Veri (@golgeveri) October 17, 2026
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب امریکا نے ایران کی تیل کی آمدن اور فوجی اخراجات پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایرانی سمندری تجارت محدود کر رکھی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے جمعے کو کہا تھا کہ امریکی افواج نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اجازت یافتہ امداد کے سوا ایران کی سمندری درآمدات اور برآمدات روک دی ہیں۔ ان کے مطابق حالیہ مہینوں میں کم از کم 25 ارب ڈالر مالیت کے ایرانی خام تیل کی برآمدات روکی جاچکی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی انتخابات سے قبل آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کی ایرانی حکمت عملی کیوں؟
آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ایک اہم بحری گزرگاہ ہے، جہاں سے معمول کے حالات میں دنیا کی مجموعی تیل کھپت کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ ایران نے جنگ شروع ہونے کے بعد اس گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں کے لیے اجازت لینا ضروری قرار دیا تھا۔
Iranian state TV aired footage claiming to show an oil tanker exploding after striking a naval mine in the Strait of Hormuz. The footage emerged as the US guides ships along a route near Oman’s coast, despite Iran’s warnings against unauthorised transit. pic.twitter.com/HwVRyVBWdy
— Al Jazeera English (@AJEnglish) October 17, 2026
دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز بحری آمدورفت کے لیے کھلی ہے اور گزشتہ سات روز میں تقریباً 400 تجارتی جہاز اس راستے سے گزر چکے ہیں۔











