امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے جاری کشیدگی کے دوران اہم تیل بردار گزرگاہ آبنائے ہرمز کو مزاحیہ انداز میں ’ آبنائے ٹرمپ‘ قرار دے دیا، جس پر تقریب میں موجود افراد نے قہقہے لگائے۔
امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو میامی میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران آبنائے ہرمز کا ذکر کرتے ہوئے اسے ’ آبنائے ٹرمپ‘ کہہ دیا۔
انہوں نے کہا کہ ’ایران کو ‘آبنائے ٹرمپ‘ میرا مطلب ہے ہرمز کو کھولنا ہوگا‘، جس پر حاضرین ہنس پڑے۔
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو ’آبنائے ٹرمپ‘ کہہ دیا.
ہم اس وقت مذاکرات کر رہے ہیں، اور اگر کوئی حل نکل آئے تو یہ بہترین ہوگا۔
لیکن انہیں ’آبنائے ٹرمپ‘ کو کھولنا ہوگا۔ ’’بڑی غلطی ہو گئی‘‘ pic.twitter.com/TyJB7AZU7l— WE News (@WENewsPk) March 28, 2026
ٹرمپ نے بعد ازاں معذرت کا ڈرامائی انداز اپناتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ’ خوفناک غلطی‘ تھی، تاہم ساتھ ہی انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ میڈیا اسے بڑھا چڑھا کر پیش کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ’مجھ سے غلطیاں کم ہی ہوتی ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کی مقبولیت میں نمایاں کمی، 59 فیصد امریکی عوام غیر مطمئن، سروے
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل بردار گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل گزرتا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں یہ گزرگاہ ایک اہم تنازع بن چکی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے اس راستے کو متاثر کرنے کی صلاحیت نے عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی اور قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ پیدا کیا ہے۔
اس سے قبل بھی ٹرمپ نے تجویز دی تھی کہ اس گزرگاہ کو ’میرے اور آیت اللہ کے مشترکہ کنٹرول‘ میں دیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران امریکا کے ساتھ معاہدے کے لیے بے تاب ہے، تاہم ایران نے براہ راست مذاکرات کی خبروں کی تردید کی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ اس گزرگاہ کا نام تبدیل کر کے ’آبنائے امریکا‘ یا اپنے نام سے منسوب کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں، جیسا کہ وہ پہلے بھی جغرافیائی ناموں میں تبدیلی کی بات کر چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے آبنائے ہرمز سے پاکستانی پرچم بردار کئی آئل ٹینکرز تحفتاً بھیجے گئے، صدر ٹرمپ کا انکشاف
یہ بیان ٹرمپ کے اس انداز کی عکاسی کرتا ہے جس میں وہ اپنی شخصیت اور نام کو نمایاں رکھتے ہیں، چاہے وہ کاروبار ہو یا سیاست۔
اس سے قبل بھی وہ مختلف مواقع پر اپنے نام کو اداروں اور مقامات کے ساتھ جوڑنے کے حوالے سے بیانات دے چکے ہیں۔
ٹرمپ کا یہ بیان بظاہر مزاحیہ تھا، مگر اس نے ایک حساس عالمی مسئلے کے تناظر میں نئی بحث کو جنم دیا ہے، جہاں آبنائے ہرمز کی اہمیت اور اس پر کنٹرول کا معاملہ عالمی سیاست کا اہم موضوع بنا ہوا ہے۔












