پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے حکومتی کفایت شعاری مہم کے تحت پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے گیارہویں ایڈیشن کو محدود پیمانے پر منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت میچز صرف 2 شہروں میں اور بغیر تماشائیوں کے کھیلے جائیں گے۔ تاہم اس فیصلے کے مالی اثرات پر خدشات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: شائقین کے بغیر پی ایس ایل ادھورا ہے، فرنچائزز مالکان نے وزیراعظم سے اسٹیڈیمز کھولنے کی اپیل کردی
میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ سیزن میں اسٹیڈیمز میں شائقین کی آمد سے قریباً 50 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی تھی، جو اس بار مکمل طور پر ختم ہو جائے گی، جس کے باعث اس خسارے کو پورا کرنے کا سوال اہمیت اختیار کرگیا ہے۔
پی ایس ایل کے مالیاتی نظام کے تحت ٹکٹوں کی آمدنی کسی ایک فرنچائز کو نہیں دی جاتی بلکہ اسے مرکزی ریونیو پول میں شامل کیا جاتا ہے، جسے پی سی بی خود کنٹرول کرتا ہے۔ اس پول میں براڈ کاسٹنگ رائٹس، اسپانسرشپ اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی شامل ہوتی ہے۔
یہ ریونیو ایک مخصوص فارمولے کے تحت تقسیم کیا جاتا ہے، جس کے مطابق پی سی بی قریباً 5 فیصد سے زیادہ حصہ رکھتا ہے جبکہ 90 فیصد سے زیادہ رقم تمام فرنچائزز میں مساوی طور پر تقسیم کی جاتی ہے۔
مثال کے طور پر پی ایس ایل 8 (2023) میں لیگ کی مجموعی آمدن قریباً 5.62 ارب روپے رہی، جس میں سے پی سی بی کو لگ بھگ 58 کروڑ روپے ملے جبکہ باقی رقم 6 ٹیموں میں تقسیم کی گئی اور ہر ٹیم کو اوسطاً 84 کروڑ روپے کے قریب حصہ ملا۔
چونکہ گیٹ منی بھی اسی مرکزی ریونیو پول کا حصہ ہوتی ہے، اس لیے اس کی عدم موجودگی کا اثر تمام ٹیموں پر یکساں پڑے گا۔ تاہم پی سی بی کا کہنا ہے کہ وہ اس مالی خسارے کو خود برداشت کرےگا۔
مزید پڑھیں: بغیر تماشائی پی ایس ایل میچز شروع، قذافی اسٹیڈیم کے باہر موجود شائقین کرکٹ کیا کہتے ہیں؟
ماہرین کے مطابق مالی نقصان کا ازالہ کسی حد تک ممکن ہے، لیکن شائقین کے بغیر میچز کے ماحول میں جو کمی آئے گی، اسے پورا کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔














