چین اور روس کا اسٹریٹجک اتحاد مزید مضبوط، شی جن پنگ اور پیوٹن کے درمیان اہم معاہدے

بدھ 20 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین اور روس نے اپنے دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دیتے ہوئے تجارت، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں متعدد اہم معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ چینی صدر شی جن پنگ نے دونوں ممالک کے تعلقات کو ’جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی بلند ترین سطح‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیجنگ اور ماسکو ایک دوسرے کے لیے مضبوط اسٹریٹجک سہارا بنے رہیں گے، جبکہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے چین کو بلا تعطل تیل اور گیس فراہمی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

چین اور روس نے اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے 20 سے زائد معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، جن میں تجارت، ٹیکنالوجی، سائنسی تحقیق اور توانائی کے شعبے شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے چین نے مشرقِ وسطیٰ جنگ پر خطرے کی گھنٹی بجا دی

بیجنگ میں ہونے والی تقریب کے دوران چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے سب سے پہلے ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کو مزید وسعت دینے اور ہمسایہ و دوستانہ تعلقات کو گہرا کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

اس کے بعد دونوں ممالک کے حکام نے تجارت، ٹیکنالوجی، دانشورانہ املاک اور سائنسی تحقیق سمیت مختلف شعبوں میں کئی دیگر معاہدوں پر بھی دستخط کیے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور روس کے تعلقات مسلسل ترقی کر رہے ہیں اور اب یہ ’جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی بلند ترین سطح‘ تک پہنچ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ برابری اور باہمی احترام کا رویہ اختیار کیا، جس کے باعث دوطرفہ تعلقات ایک ’نئے آغاز‘ میں داخل ہو گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سرکاری دورے پر چین پہنچ گئے

چینی صدر نے کہا کہ بیجنگ اور ماسکو ایک دوسرے کے لیے مضبوط اسٹریٹجک ستون بنے رہیں گے اور ہر سطح پر رابطوں اور تبادلوں کو مزید فروغ دیا جائے گا۔

شی جن پنگ نے اس موقع پر مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں تعاون بڑھانے کا بھی اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چین اور روس کو ’ذمہ دار عالمی طاقتوں‘ کے طور پر بین الاقوامی انصاف کے تحفظ اور یکطرفہ دباؤ یا ’تاریخ کو الٹنے والے اقدامات‘ کے خلاف مشترکہ کردار ادا کرنا چاہیے۔

چینی صدر کے خطاب کے بعد روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روس چین کو توانائی کی فراہمی جاری رکھنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

پیوٹن نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت عالمی منڈی کے منفی رجحانات اور بیرونی دباؤ سے محفوظ ہے، جبکہ روس چین کو تیل اور گیس کی بلا تعطل فراہمی جاری رکھے گا۔

روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا ہے کہ روس اور چین آزاد خارجہ پالیسی پر کاربند رہتے ہوئے عالمی سطح پر استحکام پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

پیوٹن نے کہا کہ دونوں ممالک بین الاقوامی امور میں خودمختار پالیسی اپنانے اور عالمی توازن برقرار رکھنے کے لیے قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔

دونوں رہنماؤں نے میڈیا سے مختصر گفتگو کے بعد بغیر سوالات لیے کانفرنس ختم کر دی۔ اپنے اختتامی کلمات میں پیوٹن نے اس امید کا اظہار کیا کہ حالیہ مذاکرات روس اور چین کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔

روسی میڈیا کے مطابق دونوں ممالک نے ’کثیر قطبی عالمی نظام‘ سے متعلق ایک مشترکہ اعلامیے پر بھی دستخط کیے، جسے عالمی سیاست میں مغربی اثر و رسوخ کے مقابل متبادل عالمی ڈھانچے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر روسی خبر رساں ادارے انٹرفیکس کے مطابق کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے اس امکان کو مسترد نہیں کیا کہ رواں سال نومبر میں چین میں ہونے والے ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (اے پیک) اجلاس کے موقع پر روسی صدر پیوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات ہو سکتی ہے۔

پیوٹن پہلے ہی اے پیک اجلاس میں شرکت کی تصدیق کر چکے ہیں، جبکہ امریکا کی جانب سے وفد بھیجنے کا اعلان کیا گیا ہے، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ صدر ٹرمپ خود اس اجلاس میں شریک ہوں گے یا نہیں۔

دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ روس اور چین کے رہنماؤں کی گفتگو میں ’اسٹریٹجک تعاون‘، ’دوستی‘، ’باہمی احترام‘ اور ’شراکت داری‘ جیسے سفارتی جملے نمایاں رہے، تاہم اصل توجہ توانائی کے شعبے میں ممکنہ پیش رفت پر مرکوز ہے۔

روس کو خاص طور پر ’پاور آف سائبریا 2‘ گیس پائپ لائن منصوبے پر پیش رفت کی امید ہے، جو کافی عرصے سے تعطل کا شکار ہے۔ اس مجوزہ منصوبے کے تحت مغربی سائبیریا سے قدرتی گیس منگولیا کے راستے شمالی چین منتقل کی جائے گی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان توانائی تعاون میں مزید وسعت متوقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں ہار تسلیم کرے، بلاول بھٹو کو اپنے بیانیے اور کام پر توجہ دینی چاہیے، مریم نواز

جاپان اور یونیسیف کا پاکستان میں بچوں کے تحفظ اور فلاح کے لیے طویل شراکت داری جاری رکھنے کا عزم

افغان طالبان کا نیا ہتھکنڈا: کم عمر بچوں کو عسکری مقاصد کے لیے بھرتی کرنے اور انتہا پسندانہ تربیت دینے کا انکشاف

عام تعطیلات: اگست میں 7 چھٹیاں ملیں گی، کچھ کو 12 بھی

‘میں خوبصورتی کے بنائے گئے سانچے میں فٹ نہیں بیٹھتی’، کبریٰ خان

ویڈیو

امریکی کانگریس کے وفد کی اسحاق ڈار سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

آزاد کشمیر میں عوامی مینڈیٹ کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے، دھاندلی کے الزامات کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیے، بلاول بھٹو

جنوب مغربی جاپان میں 7.1 شدت کا زلزلہ، سونامی الرٹ جاری

کالم / تجزیہ

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی

جاوید ہاشمی جواب دیں

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی