پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز خریداری کا رجحان برقرار رہا، جس کی بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے جلد ختم ہونے کے بیان کو قرار دیا جا رہا ہے۔
مارکیٹ کے آغاز میں ہی بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 500 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال، کاروبار کے آغاز پر تیزی
صبح 9:30 بجے انڈیکس 163,459.05 کی سطح پر تھا، جو 562.37 پوائنٹس یعنی 0.35 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
مارکیٹ میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں اور پاور جنریشن کے شعبوں میں نمایاں خریداری دیکھی گئی۔
PSX Opened Positive 🚀
☀️ KSE 100 opened positive by +433.26 points this morning. Current index is at 163,329.94 points (9:45 AM) pic.twitter.com/dWgZ9H4qxx— Investify Pakistan (@investifypk) May 20, 2026
حبکو، ماری پیٹرولیم، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، فوجی فرٹیلائزر کمپنی اور اینگرو فرٹیلائزرز سمیت بڑے حصص میں شامل کمپنیوں کے شیئرز مثبت زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔
گزشتہ روز یعنی منگل کو بھی اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھی گئی تھی، جب عالمی سطح پر جیوپولیٹیکل خدشات میں کمی اور خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا۔
مزید پڑھیں: 2025-26 کی تیسری سہ ماہی میں معیشت کی شرح نمو 3.99 فیصد ریکارڈ
اس روز انڈیکس 1,091.66 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 162,896.68 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
عالمی مارکیٹس میں تاہم منفی رجحان دیکھا گیا، سرمایہ کار امریکی کمپنی اینویڈیا کی آمدنی کے نتائج کے منتظر ہیں۔

ایشیائی اسٹاکس مسلسل چوتھے روز کمی کا شکار رہیں کیونکہ جنگی خدشات کے باعث افراطِ زر اور شرحِ سود میں اضافے کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔
امریکی فیڈرل ریزرو کی ممکنہ سخت مالیاتی پالیسی کے خدشات کے باعث 10 سالہ ٹریژری ییلڈ 4.687 فیصد جبکہ 30 سالہ ییلڈ 5.198 فیصد تک پہنچ گئی، جو 2007 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
مزید پڑھیں: سرمایہ کاروں کا اعتماد اسٹاک ایکسچینج میں بہتری کا باعث، کیا معیشت مستحکم ہورہی ہے؟
خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، برینٹ کروڈ 0.2 فیصد کمی کے بعد 111.07 ڈالر فی بیرل پر رہا، تاہم یہ اب بھی بلند سطح پر ہے۔
ایشیائی مارکیٹس میں بھی مندی غالب رہی، جہاں ایم ایس سی آئی ایشیا پیسیفک انڈیکس میں 0.7 فیصد کمی، جاپان کے نکی میں 1.6 فیصد اور جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔














