یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور نے پاکستان مارشل آرٹس ایسوسی ایشن کے تعاون سے لاہور ڈویژن کی طالبات کے لیے بڑے پیمانے پر سیلف ڈیفنس ٹریننگ پروگرام شروع کر دیا ہے، جس کا مقصد نچلی سطح پر کھیلوں کے فروغ کے ساتھ نوجوانوں خصوصاً لڑکیوں کو بااختیار بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی طالبات کیسے آکسفورڈ یونیورسٹی کی فلی فنڈڈ اسکالرشپ حاصل کرسکتی ہیں؟
لاہور، شیخوپورہ اور قصور میں جاری ورکشاپس کے دوران اب تک 30 اسکولوں کی 2500 سے زائد طالبات کو تربیت فراہم کی جاچکی ہے۔ پروگرام کے تحت مارشل آرٹس کو باقاعدہ کھیل کے طور پر استعمال کرتے ہوئے طالبات کی جسمانی فٹنس، چستی اور ذہنی استقامت کو بہتر بنانے کے ساتھ انہیں خود حفاظتی کے عملی گر بھی سکھائے جارہے ہیں۔
ٹریننگ سیشنز پاکستان مارشل آرٹس ایسوسی ایشن کے صدر اور چیف ٹرینر انور محی الدین کی سربراہی میں ماہر کوچز کی نگرانی میں منعقد ہو رہے ہیں، جہاں جدید مارشل آرٹس تکنیک، نظم و ضبط اور دفاعی مہارتوں پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔
وائس چانسلر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز پروفیسر احسن وحید راٹھور نے کہا کہ یہ اقدام وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے اس وژن کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت پنجاب کی ہر لڑکی کو خود حفاظتی کی تربیت فراہم کرنا مقصود ہے۔ ان کے مطابق یہ پروگرام محفوظ اور مضبوط معاشرے کی تشکیل کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں میڈیکل ایجوکیشن کے مسائل کے حل کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل
ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ پروفیسر ڈاکٹر سدرہ سلیم نے کہا کہ سیلف ڈیفنس کی تعلیم نوجوان نسل کی ہمہ جہت نشوونما کے لیے ناگزیر ہے تاکہ وہ اعتماد اور خودمختاری کے ساتھ زندگی میں آگے بڑھ سکیں۔
چیف ٹرینر انور محی الدین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مارشل آرٹس صرف کھیل نہیں بلکہ ندگی بچانے کی ایک اہم مہارت ہے، اور مثبت عوامی ردعمل کے بعد اس پروگرام کا دائرہ کار ملک بھر تک وسیع کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
تعلیمی اداروں اور سماجی حلقوں نے اس اقدام کو خواتین کے تحفظ اور خودمختاری کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے اسے سراہا ہے۔













