بلوچستان میں امن کے لیے سخت فیصلے، ہر دہشتگرد کا پیچھا کیا جائے گا، میر ضیا لانگو

پیر 30 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیا اللہ لانگو کا کہنا ہے کہ حکومت دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور ہر دہشتگرد کا تعاقب کیا جائے گا۔

ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیر داخلہ نے بتایا کہ بلوچستان میں غیر معمولی حالات ہیں اور بڑی طاقتیں بھی اس صورتحال میں ملوث ہو سکتی ہیں، اسی لیے امن کے قیام کے لیے سخت اقدامات اور اہم فیصلے کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ صوبے میں ریاست اور ریاستی اداروں کے علاوہ کسی کو اسلحہ رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کے لیے سخت احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:

اس موقع پر معاون وزیر داخلہ بابر یوسفزئی نے بتایا کہ گزشتہ رات دہشتگردوں کی کارروائی میں ایک شہری جاں بحق جبکہ 11 زخمی ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ مستونگ اور جھل مگسی میں دہشتگردی کے حملوں کو بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنایا گیا، جبکہ جھل مگسی میں 2 دہشتگرد زخمی اور ایک ہلاک کیا گیا۔

کہا ہے کہ حکومت بلوچستان وزیر اعلیٰ کی ہدایات کے مطابق صوبے میں امن و امان کے قیام اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنا رہی ہے۔

مزید پڑھیں: ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، بلوچستان میں عوام کو کن مشکلات کا سامنا ہے؟

میر ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ سوشل میڈیا کا غلط استعمال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور دشمن عناصر مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے صوبے کے امن کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں کوئی بھی حکومت یہ نہیں چاہتی کہ معاشرے میں بدامنی اور فساد پھیلے، تاہم پاکستان مخالف عناصر ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے درپے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، بڑے سرکاری اسپتالوں میں سرکاری خرچ پر علاج جاری ہے جبکہ طلبا کو سرکاری اسکالرشپس کے ذریعے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چند عناصر نے دہشتگردی کو باقاعدہ کاروبار بنا لیا ہے۔

مزید پڑھیں: بلوچستان میں ڈھائی سالہ اقتدار کا فارمولہ، سرفراز بگٹی کی کرسی خطرے میں؟

وزیر داخلہ نے کہا کہ افغانستان ایک برادر ملک ہے، تاہم وہاں کی صورتحال کے اثرات کے باعث پاکستان میں مساجد، مدارس اور اسکول بھی محفوظ نہیں رہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ 11 جنوری کو کوئٹہ میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعات اس کی واضح مثال ہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ دہشتگرد معصوم بچوں، حتیٰ کہ 15 اور 16 سال کے نوجوانوں کو بھی اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جو انتہائی تشویشناک ہے۔

’دہشتگردی کسی صورت قابل قبول نہیں‘

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا عالمی انسانی حقوق کے ادارے اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ معصوم افراد کو دہشتگردی میں جھونکا جائے۔

میر ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور ہر دہشتگرد کا تعاقب کیا جائے گا۔

اس سے قبل وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو کی زیر صدارت فیفٹیک کے دفتر میں امن و امان کی صورتحال پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات، ڈی آئی جی کوئٹہ، ڈی آئی سی ٹی ڈی اعتزاز گوریہ، کمشنرز اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

مزید پڑھیں: وزیر اعلیٰ بلوچستان کی کھلی کچہری، عوامی مسائل پر فوری احکامات جاری

اجلاس کے دوران صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جبکہ گزشتہ روز پیش آنے والے واقعات اور ان پر سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائیوں سے متعلق بھی شرکا کو آگاہ کیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق اجلاس میں امن و امان کی بہتری کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔ اس موقع پر وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امن و امان کی بحالی پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

مزید پڑھیں: بلوچستان میں بارشوں کا نیا سلسلہ متوقع، کراچی بھی متاثر ہوگا، محکمہ موسمیات کی وارننگ

انہوں نے کہا کہ بعض عناصر املاک اور عوامی مفاد کی سہولیات کو نقصان پہنچا کر عوام دشمنی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، تاہم ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

وزیر داخلہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشتگردی کسی صورت قابل قبول نہیں اور اس کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ امن و امان کی بحالی میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیاں قابل قدر ہیں، اور حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp