فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے 3 سابق اہلکاروں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے خلاف اجتماعی مقدمہ دائر کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں 2020 کے صدارتی انتخابات کے بعد ٹرمپ کی جانب سے اقتدار میں رہنے کی کوششوں کی تحقیقات پر کام کرنے کے باعث انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا۔
مقدمہ دائر کرنے والے اہلکاروں میں مشیل بال، جیمی گارمن اور بلیئر ٹولمین شامل ہیں، جن کا مؤقف ہے کہ انہیں بلا جواز ملازمت سے فارغ کیا گیا۔ ان کے مطابق ایف بی آئی کے کیریئر افسران غیر سیاسی ہوتے ہیں اور ان سے کسی سیاسی شخصیت یا جماعت سے وفاداری کا تقاضا نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیے: سربراہ ایف بی آئی کاش پٹیل کی گرل فرینڈ کا پوڈکاسٹر کیخلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ
سابق اہلکاروں نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی عوام کی خدمت ان کے لیے سب سے بڑا اعزاز تھی اور انہوں نے ہمیشہ آئین کی پاسداری کرتے ہوئے حقائق کی بنیاد پر کام کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں بغیر مناسب قانونی عمل کے ہٹایا گیا، جو نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں میں سیاسی مداخلت پر بھی سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
مقدمے کے مطابق انہیں اکتوبر اور نومبر میں اچانک برطرف کیا گیا، جبکہ برطرفی کے خطوط ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل کے دستخط سے جاری ہوئے، جن میں ان پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے کہ انہوں نے اپنے عہدوں کو ‘ہتھیار’ کے طور پر استعمال کیا۔
یہ بھی پڑھیے: کیا سابق امریکی نائب صدر کملا ہیرس کے شوہر نے جیفری ایپسٹین کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں سفر کیا؟
یہ اہلکار خصوصی پراسیکیوٹر جیک اسمتھ کی سربراہی میں ہونے والی تحقیقات میں معاونت کر رہے تھے، جس کے نتیجے میں 2023 میں ڈونلڈ ٹرمپ پر انتخابی نتائج کو بدلنے کی مبینہ کوشش کے الزامات میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔
مبینہ طور پر یہ مقدمہ مزید برطرف اہلکاروں کے لیے بھی اپنی ملازمتوں کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔














