بھارت نے دنیا کی سب سے بڑی مردم شماری کا آغاز کر دیا ہے، جس میں تقریباً ایک صدی بعد پہلی بار ذات کی بنیاد پر گنتی بھی شامل کی گئی ہے۔
لگ بھگ 1.24 ارب ڈالر کی لاگت سے کی جانیوالی اس مردم شماری کے دوران 30 لاکھ سے زائد سرکاری اہلکار ایک سال تک تقریباً 1.4 ارب افراد سے ان کے گھریلو ڈھانچے، رہائشی حالات اور بنیادی سہولیات تک رسائی سے متعلق معلومات جمع کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی بینک میں کروڑوں روپے کا گولڈ لون اسکینڈل، بینک کو 2 سال بعد پتا چلا
بھارت میں آخری مردم شماری 2011 میں ہوئی تھی، جبکہ 2021 میں ہونے والی مردم شماری کورونا وبا کے باعث مؤخر ہو گئی تھی، جس کے نتیجے میں آبادی، رہائش اور فلاحی سہولیات سے متعلق ڈیٹا پرانا ہوچکا ہے۔
رواں سال کی مردم شماری پہلی بار مکمل طور پر ڈیجیٹل طریقے سے کی جائے گی۔
The long-delayed national census will collect a wide range of data including citizens’ caste https://t.co/RtIMmzhNJE
— Bloomberg (@business) April 1, 2026
مردم شمار کنندگان اسمارٹ فون ایپس کے ذریعے 33 سوالات پر مشتمل معلومات اکٹھی کریں گے۔
شہریوں کو آن لائن خود اندراج کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے، جس کے بعد انہیں ایک منفرد ڈیجیٹل شناختی نمبر دیا جائے گا۔
یہ عمل 2 مراحل پر مشتمل ہوگا۔ پہلے مرحلے میں، جو ستمبر تک جاری رہے گا، گھروں کی تعداد، ملکیت اور بنیادی سہولیات جیسے پانی، بجلی، ایندھن، انٹرنیٹ اور ٹرانسپورٹ سے متعلق سوالات پوچھے جائیں گے۔
مزید پڑھیں: بھارتی حکومت کا ہوائی جہازوں کے ایندھن میں مکمل اضافہ روکنے کا فیصلہ، ایئرلائنز کو جزوی ریلیف
دوسرے مرحلے کا آغاز فروری میں ہوگا، جس میں تعلیم، ہجرت، شرحِ پیدائش اور سماجی و معاشی تفصیلات جمع کی جائیں گی۔
اسی مرحلے میں ذات کی بنیاد پر مردم شماری بھی کی جائے گی۔ یہ پورا عمل آئندہ سال 31 مارچ تک مکمل ہونے کا امکان ہے۔
ماہرین کے مطابق مردم شماری نہ صرف آبادی کی تعداد بتاتی ہے بلکہ شہری و دیہی تقسیم، روزگار، مذہب اور سماجی ڈھانچے کے بارے میں بھی اہم معلومات فراہم کرتی ہے، جو حکومتی پالیسی سازی اور وسائل کی تقسیم میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔
India's long-delayed census is finally happening — and it will count caste for the first time in decades.
1.4 billion people. One dataset.
The political and economic fallout will take years to play out.— CRPT (@crpt001) April 1, 2026
اس بار مردم شماری کو خاص اہمیت اس لیے بھی حاصل ہے کیونکہ اس کی بنیاد پر انتخابی حلقہ بندیوں میں تبدیلی متوقع ہے، جس سے سیاسی نمائندگی پر اثر پڑ سکتا ہے، خصوصاً شمالی اور جنوبی بھارت کے درمیان توازن کے حوالے سے خدشات موجود ہیں۔
مزید برآں، پارلیمنٹ میں خواتین کے لیے ایک تہائی نشستوں کے مختص ہونے کا قانون بھی نئی مردم شماری اور حلقہ بندیوں سے مشروط ہے۔
مردم شماری میں ذات کی شمولیت ایک متنازع معاملہ بھی رہی ہے۔ 1931 کے بعد پہلی بار مکمل پیمانے پر ذات کی بنیاد پر ڈیٹا جمع کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: بھارتی ایئر لائنز کی پرواز کے دوران مسافر کی ایمرجنسی دروازہ کھولنے کی کوشش، ’بھوت کے قبضے‘ کا دعویٰ
بعض حلقے اسے سماجی انصاف کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین کے مطابق اس سے معاشرے میں تقسیم مزید گہری ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ذات سے متعلق تفصیلی ڈیٹا کے بغیر یہ جاننا مشکل ہے کہ وسائل، مواقع اور محرومیاں کس طرح تقسیم ہیں، جبکہ مخالفین کے مطابق اس عمل سے ذات پات کی شناخت کو مزید مضبوطی مل سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت: مسلمان طالبعلم کو ’دہشتگرد‘ کہنے پر پروفیسر معطل
مزید خدشات اس بات پر بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ مردم شماری کے ڈیٹا کو شہریت کے تعین، خاص طور پر نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز اور شہریت ترمیمی قانون کے تناظر میں استعمال کیا جا سکتا ہے، جس پر انسانی حقوق کے حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ مردم شماری کے عمل میں شفافیت، واضح طریقہ کار اور پارلیمانی نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ڈیٹا کی ساکھ برقرار رہے۔














