ایک صدی بعد ذات کی بنیاد پر مردم شماری، بھارت میں نئی بحث چھڑ گئی

جمعرات 2 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت نے دنیا کی سب سے بڑی مردم شماری کا آغاز کر دیا ہے، جس میں تقریباً ایک صدی بعد پہلی بار ذات کی بنیاد پر گنتی بھی شامل کی گئی ہے۔

لگ بھگ 1.24 ارب ڈالر کی لاگت سے کی جانیوالی اس مردم شماری کے دوران 30 لاکھ سے زائد سرکاری اہلکار ایک سال تک تقریباً 1.4 ارب افراد سے ان کے گھریلو ڈھانچے، رہائشی حالات اور بنیادی سہولیات تک رسائی سے متعلق معلومات جمع کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی بینک میں کروڑوں روپے کا گولڈ لون اسکینڈل، بینک کو 2 سال بعد پتا چلا

بھارت میں آخری مردم شماری 2011 میں ہوئی تھی، جبکہ 2021 میں ہونے والی مردم شماری کورونا وبا کے باعث مؤخر ہو گئی تھی، جس کے نتیجے میں آبادی، رہائش اور فلاحی سہولیات سے متعلق ڈیٹا پرانا ہوچکا ہے۔

رواں سال کی مردم شماری پہلی بار مکمل طور پر ڈیجیٹل طریقے سے کی جائے گی۔

مردم شمار کنندگان اسمارٹ فون ایپس کے ذریعے 33 سوالات پر مشتمل معلومات اکٹھی کریں گے۔

شہریوں کو آن لائن خود اندراج کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے، جس کے بعد انہیں ایک منفرد ڈیجیٹل شناختی نمبر دیا جائے گا۔

یہ عمل 2 مراحل پر مشتمل ہوگا۔ پہلے مرحلے میں، جو ستمبر تک جاری رہے گا، گھروں کی تعداد، ملکیت اور بنیادی سہولیات جیسے پانی، بجلی، ایندھن، انٹرنیٹ اور ٹرانسپورٹ سے متعلق سوالات پوچھے جائیں گے۔

مزید پڑھیں: بھارتی حکومت کا ہوائی جہازوں کے ایندھن میں مکمل اضافہ روکنے کا فیصلہ، ایئرلائنز کو جزوی ریلیف

دوسرے مرحلے کا آغاز فروری میں ہوگا، جس میں تعلیم، ہجرت، شرحِ پیدائش اور سماجی و معاشی تفصیلات جمع کی جائیں گی۔

اسی مرحلے میں ذات کی بنیاد پر مردم شماری بھی کی جائے گی۔ یہ پورا عمل آئندہ سال 31 مارچ تک مکمل ہونے کا امکان ہے۔

ماہرین کے مطابق مردم شماری نہ صرف آبادی کی تعداد بتاتی ہے بلکہ شہری و دیہی تقسیم، روزگار، مذہب اور سماجی ڈھانچے کے بارے میں بھی اہم معلومات فراہم کرتی ہے، جو حکومتی پالیسی سازی اور وسائل کی تقسیم میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔

اس بار مردم شماری کو خاص اہمیت اس لیے بھی حاصل ہے کیونکہ اس کی بنیاد پر انتخابی حلقہ بندیوں میں تبدیلی متوقع ہے، جس سے سیاسی نمائندگی پر اثر پڑ سکتا ہے، خصوصاً شمالی اور جنوبی بھارت کے درمیان توازن کے حوالے سے خدشات موجود ہیں۔

مزید برآں، پارلیمنٹ میں خواتین کے لیے ایک تہائی نشستوں کے مختص ہونے کا قانون بھی نئی مردم شماری اور حلقہ بندیوں سے مشروط ہے۔

مردم شماری میں ذات کی شمولیت ایک متنازع معاملہ بھی رہی ہے۔ 1931 کے بعد پہلی بار مکمل پیمانے پر ذات کی بنیاد پر ڈیٹا جمع کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: بھارتی ایئر لائنز کی پرواز کے دوران مسافر کی ایمرجنسی دروازہ کھولنے کی کوشش، ’بھوت کے قبضے‘ کا دعویٰ

بعض حلقے اسے سماجی انصاف کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین کے مطابق اس سے معاشرے میں تقسیم مزید گہری ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ذات سے متعلق تفصیلی ڈیٹا کے بغیر یہ جاننا مشکل ہے کہ وسائل، مواقع اور محرومیاں کس طرح تقسیم ہیں، جبکہ مخالفین کے مطابق اس عمل سے ذات پات کی شناخت کو مزید مضبوطی مل سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت: مسلمان طالبعلم کو ’دہشتگرد‘ کہنے پر پروفیسر معطل

مزید خدشات اس بات پر بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ مردم شماری کے ڈیٹا کو شہریت کے تعین، خاص طور پر نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز اور شہریت ترمیمی قانون کے تناظر میں استعمال کیا جا سکتا ہے، جس پر انسانی حقوق کے حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ مردم شماری کے عمل میں شفافیت، واضح طریقہ کار اور پارلیمانی نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ڈیٹا کی ساکھ برقرار رہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسرائیلی پارلیمان میں اذان اور نماز کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی کا متنازع بل منظور

ایپل کا 2027 تک 5 نئے آئی فون متعارف کرانے کا منصوبہ، چین سے میموری چپس حاصل کرنے کا بھی امکان

باغبانپورہ  اسکول حادثہ : مریم نواز کا فوری نوٹس، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم

سونے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ،فی تولہ قیمت کتنی ہو گئی؟

عدنان صدیقی نے بانسری پر اے آر رحمان اور شنکر جے کشن کی مشہور دھنیں بجا کر صارفین کو حیران کردیا

ویڈیو

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی، بھارت پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرے، دفتر خارجہ

صادقین کی 96ویں سالگرہ پر پاکستان پوسٹ کا دنیا کا طویل ترین یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری

پی ٹی آئی کی اندرونی رسہ کشی، خیبرپختونخوا کے عوام پریشان

کالم / تجزیہ

بھارتی آبی جارحیت: چند سنگین قانونی پہلو

دریاؤں کو بہنے دو

تفرقہ اور نام نہاد پوڈکاسٹرز