امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے تازہ خطاب میں واضح کیا کہ امریکا ایران کے خلاف جنگ جاری رکھے گا اور خطے میں امریکی اور عالمی مفادات کی حفاظت کے لیے بھرپور فوجی کارروائیاں کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے حالیہ فوجی آپریشنز میں تیز، فیصلہ کن اور مکمل کامیابیاں حاصل کی ہیں، دشمن کی اعلیٰ قیادت ہلاک ہو چکی ہے، اور ایران کی عسکری و اقتصادی صلاحیت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران جنگ: دو تہائی امریکی فوری خاتمے کے حق میں، سروے میں حیران کن انکشاف
انہوں نے کہا کہ امریکا اب پہلے سے زیادہ مضبوط، محفوظ اور عالمی سطح پر اثرورسوخ رکھنے والا ملک ہے، اور ایران کے خطرات جلد ختم ہو جائیں گے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوج نے منظم اور بھرپور آپریشن کے تحت ایران کے خلاف کارروائی کی، جس میں میدانِ جنگ میں فیصلہ کن کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی افواج نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا اور دشمن کو پسپا کرنے پر مجبور کر دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کارروائیوں میں شامل فوجی اہلکار بہادری کی مثال ہیں اور قوم ان پر فخر کرتی ہے۔ صدر نے دعا کی کہ خدا ان کی حفاظت کرے۔
میں ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت کبھی نہیں دونگا : ڈونلڈ ٹرمپ pic.twitter.com/i6XTmJiwEO
— WE News (@WENewsPk) April 2, 2026
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دہشتگردی کی سرپرستی کرنے والا ملک قرار دیا اور کہا کہ خطے میں استحکام کے لیے ایسے عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی عسکری کمان، ہتھیاروں کے نظام اور دفاعی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے، جبکہ امریکی فوجی کارروائی ’آپریشن ایپک فیوری‘ کو عالمی سلامتی کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔

صدر نے کہا کہ ایران کی انقلابی گارڈ فورس کی کمان اور کنٹرول کی صلاحیت تیزی سے تباہ ہو رہی ہے اور اس کے ڈرون پروگرام کو نمایاں طور پر محدود کر دیا گیا ہے۔ ایران کے اسلحہ بنانے والے کارخانے اور راکٹ لانچنگ کے نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔
قاسم سلیمانی اور ایران جوہری معاہدہ
صدر نے ایران کے سابق کمانڈر قاسم سلیمانی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خاتمے کے بعد ایران کی علاقائی حکمت عملی پر شدید دھچکا پڑا اور امریکا کو برتری حاصل ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر سلیمانی زندہ ہوتے تو موجودہ صورتحال مختلف ہو سکتی تھی، تاہم امریکا اب بھی بڑی کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق صدر بارک اوباما کے دور میں ایران جوہری معاہدے کو ’تباہ کن‘ قرار دیا اور کہا کہ اس کے تحت ایران کو بھاری رقم دی گئی تاکہ اس کا اعتماد حاصل کیا جا سکے، لیکن یہ ناکام رہا۔ انہوں نے کہا کہ اگر معاہدہ ختم نہ کیا جاتا تو ایران جوہری ہتھیار حاصل کر سکتا تھا، جو دنیا کے لیے بڑا خطرہ ہوتا۔
اگر ایران کے ساتھ کوئی ڈیل نہ ہوئی تو ہم اب ان کے بجلی اور تیل کی ہر ایک تنصبات پر حملہ کریں گے : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ pic.twitter.com/xgyjWaSGzg
— WE News (@WENewsPk) April 2, 2026
صدر نے کہا کہ امریکا نے پہلے سفارتی راستہ اپنایا، لیکن ایران نے ہر معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوششیں جاری رکھیں، جس کے بعد فوجی کارروائی ناگزیر ہو گئی۔ جون میں ایران کی اہم جوہری تنصیبات پر حملے کا حکم دیا گیا، جس میں بی ٹو بمبار طیاروں نے غیر معمولی کارکردگی دکھائی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے مختلف مقامات پر جوہری سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوشش کی، اور بیلسٹک میزائل پروگرام پر کام جاری رکھا، جو امریکا، یورپ اور دنیا کے دیگر حصوں تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ امریکی افواج نے ایران کے میزائل نظام، دفاعی صنعتی ڈھانچے، بحریہ اور فضائیہ کو شدید نقصان پہنچایا، جبکہ زیادہ تر میزائل یا تو استعمال ہو چکے یا تباہ کر دیے گئے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوج نے عراق اور دیگر خطوں میں بھرپور پیشرفت کی، اور ’آپریشن ایپک فیوری‘ امریکا اور آزاد دنیا کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔
انہوں نے وینزویلا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی افواج نے چند منٹوں میں کنٹرول حاصل کر لیا اور اب دونوں ممالک ایک حقیقی شراکت دار کے طور پر مل کر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کو وینزویلا کے ذخائر کی ضرورت نہیں بلکہ وہ صرف اپنے اتحادیوں کی مدد کے لیے وہاں موجود ہے۔
مشرقِ وسطیٰ اتحادیوں کا شکریہ
صدر نے کہا کہ امریکا ایران کے خلاف مشن جلد مکمل کرنے والا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں اتحادی ممالک اسرائیل، قطر، متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین کا تعاون قابلِ تعریف ہے۔
انہوں نے ایران پر الزام لگایا کہ اس نے تجارتی تیل بردار جہازوں اور پڑوسی ممالک پر حملے کیے، جس سے عالمی سطح پر پیٹرول کی قیمتیں بڑھیں۔ صدر نے کہا کہ امریکا معاشی طور پر مضبوط ہے، دنیا کی سب سے بڑی تیل اور گیس پیدا کرنے والا ملک بن چکا ہے، اور سعودی عرب اور روس سے زیادہ پیداوار کر رہا ہے۔ امریکا کو آبنائے ہرمز سے تیل درآمد کرنے کی ضرورت نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایران نے جلد سنجیدگی نہ دکھائی تو واپسی ممکن نہیں ہوگی، صدر ٹرمپ کی پھر دھمکی
صدر نے کہا کہ ایران کو فوجی، معاشی اور دیگر شعبوں میں ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا گیا ہے۔ ایران کے بیشتر اعلیٰ رہنما ہلاک ہو چکے ہیں، جس کے بعد وہاں اعتدال پسند قیادت ابھری ہے۔ بجلی گھر، دفاعی نظام اور دیگر اہم اہداف پر شدید نگرانی اور حملے کیے گئے، جبکہ ایران کے فضائی دفاع اور ریڈار کی صلاحیت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔
انہوں نے عالمی تاریخ کے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تنازع پہلی اور دوسری عالمی جنگ یا ویتنام جنگ کے مقابلے میں مختصر مدت میں مکمل ہو رہا ہے۔ امریکا کی فوجی حکمت عملی نے ایران کو مکمل طور پر کمزور کر دیا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کی برتری قائم ہو چکی ہے۔
ایران کے خطرے کا خاتمہ قریب
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے جارحانہ اقدامات اور جوہری خطرے سے امریکا جلد آزاد ہو جائے گا۔ انہوں نے دعا کی کہ خدا امریکی مسلح افواج کی حفاظت کرے اور امریکا کو مضبوط اور خوشحال بنائے۔
یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز سے پاکستانی پرچم بردار کئی آئل ٹینکرز تحفتاً بھیجے گئے، صدر ٹرمپ کا انکشاف
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جب تمام کارروائیاں مکمل ہو جائیں گی تو امریکا پہلے سے زیادہ محفوظ، مضبوط اور خوشحال ملک ہوگا۔ انہوں نے اختتام میں امریکی عوام کا شکریہ ادا کیا اور خطاب اختتام پذیر ہوا۔













