ایپسٹین نے خود کو ٹرمپ کا خاص بندہ ظاہر کرتے ہوئے امبانی کی رہنمائی کی، نیویارک ٹائمز

پیر 6 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ سزا یافتہ جنسی اسمگلر جیفری ایپسٹین نے خود کو ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے بااثر اندرونی فرد کے طور پر پیش کرتے ہوئے بھارتی کاروباری شخصیت انیل امبانی کو دفاعی اور سفارتی معاملات پر مشورے دیے۔

امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین نے خود کو وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے قریب بااثر شخصیت ظاہر کرتے ہوئے 2017 میں بھارتی صنعتکار انیل امبانی کو بھارت اور امریکا کے درمیان دفاعی تعاون اور قومی سلامتی سے متعلق معاملات میں رہنمائی فراہم کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بعد ازاں مالی مشکلات کا شکار ہونے والے امبانی نے وائٹ ہاؤس کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لیے ایپسٹین سے اندرونی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ پیغامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایپسٹین نے ٹرمپ انتظامیہ میں تقرریوں اور خارجہ پالیسی سے متعلق معلومات امبانی کے ساتھ شیئر کیں۔

مارچ 2017 میں امبانی نے استفسار کیا کہ آیا ڈیوڈ پیٹریاس کو بھارت میں امریکی سفیر مقرر کیا جائے گا، جس پر ایپسٹین نے جواب دیا کہ وہ معلومات حاصل کرے گا۔ بعد ازاں اس نے بتایا کہ پیٹریاس اس عہدے کے لیے زیر غور نہیں۔ بالآخر نومبر 2017 میں کینتھ آئی جسٹر کو یہ ذمہ داری سونپی گئی۔

اسی طرح جولائی 2017 میں ایپسٹین نے امبانی کو بتایا کہ جان بولٹن جلد ہی ایچ آر مک ماسٹر کی جگہ قومی سلامتی کے مشیر بن جائیں گے، یہ خبر تقریباً 8 ماہ بعد درست ثابت ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق ایپسٹین نے امبانی کو ٹرمپ کے قریبی افراد سے ملاقات کروانے کی پیشکش بھی کی، جن میں سٹیفن کے بینن اور تھامس باراک جونیئر شامل تھے۔ دوسری جانب امبانی نے خود کو نریندر مودی کی حکومت سے قریبی تعلق رکھنے والا ظاہر کیا اور ایک موقع پر کہا کہ ’قیادت‘ نے ایپسٹین سے جیرڈ کشنر اور بینن سے ملاقاتوں کے انتظام میں مدد مانگی ہے۔

پیغامات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایپسٹین نے امبانی کو مشورہ دیا کہ بھارت اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ روابط بہتر بنائے جا سکتے ہیں۔ اس دوران مودی کے شیڈول میں اسرائیل سے متعلق امور کو خاص اہمیت حاصل رہی، جو ان کے تاریخی دورۂ اسرائیل اور اسی سال تقریباً 2 ارب ڈالر کے دفاعی سودوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

انیل امبانی، جو مکیش امبانی کے چھوٹے بھائی ہیں، کاروباری مشکلات کے باعث 2007 میں تقریباً 45 ارب ڈالر سے کم ہو کر 2019 میں محض 1.7 ارب ڈالر کی ملکیت تک آ گئے۔

رپورٹ کے مطابق 2019 میں بھی دونوں کے درمیان رابطہ برقرار رہا، جہاں ایپسٹین نے بطور ’دوست‘ امبانی کو مشورے اور ہمدردی کا اظہار کیا، بغیر کسی مالی مطالبے کے۔ دونوں کی ملاقات 23 مئی 2019 کو نیویارک میں ہوئی، جو بھارت کے عام انتخابات کے نتائج کا دن بھی تھا۔ پیغامات میں سیاست اور مالی معاملات کے ساتھ ساتھ ’ڈیزرٹ‘ اور ’تفریح‘ جیسے مبہم حوالوں کا بھی ذکر ملتا ہے، تاہم ان کا مکمل سیاق و سباق واضح نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کراچی تجاوزات کیس، وفاقی آئینی عدالت نے سعید غنی کے خلاف توہین عدالت درخواست سمیت سماعت مقرر کر دی

پیداواری صلاحیت کے باوجود پاکستان میں بجلی کی شدید کمی برقرار

دن میں زیادہ اور بار بار سونا صحت کے لیے نقصان دہ، موت کی جانب پیشقدمی قرار

پی ایس ایل میچ کے دوران عامر سہیل کے کراچی سے متعلق ریمارکس پر ہنگامہ، سوشل میڈیا پر سخت تنقید

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر خدشات

ویڈیو

کرکٹ اسٹیڈیم میں اسمبلی اجلاس، پشاور کے شہری کیاکہتے ہیں؟

پاکستان کی کوششوں سے امن قائم ہو گا، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

سعودی عرب سے 3 بلین ڈالرز ملنے پر پاکستانی کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

عالمی دن پر کتاب سے مکالمہ

جنگ اور جنگ بندی کے مابین مرتب کیے 9 نتائج

لاہور پر ’مغل اعظم‘ کی یلغار