متحدہ عرب امارات کو طویل المدتی ڈیپازٹ کی واپسی سے پاکستان پر بیرونی اعتماد میں اضافہ

پیر 6 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

متحدہ عرب امارات کو طویل المدتی ڈپازٹس کی واپسی کو پاکستان کی بڑھتی ہوئی مالی صلاحیت اور بیرونی استحکام کا ثبوت قرار دیا جا رہا ہے جس سے ملک کی مالیاتی پالیسی اور بیرونی معیشت میں بہتری کے اشارے سامنے آئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس کے باعث ملک کو بیرونی مالی ذمہ داریاں ادا کرنے میں اعتماد حاصل ہوا ہے۔ مارچ 2026 کے اواخر تک مجموعی مائع زرمبادلہ ذخائر تقریباً 21.79 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان کی مالی استحکام میں بہتری، متحدہ عرب امارات کے طویل المدتی ڈیپازٹ کی واپسی اعتماد کا مظہر

اعداد و شمار کے مطابق 2022 میں معاشی دباؤ اور ادائیگیوں کے توازن کے بحران کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر شدید کمی کا شکار ہوئے تھے، اور اسٹیٹ بینک کے ذخائر بعض اوقات 7 ارب ڈالر سے بھی کم رہ گئے تھے۔

تاہم بعد ازاں حکومت پاکستان اور اسٹیٹ بینک نے مالی استحکام، اصلاحات اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سمیت شراکت داروں کے ساتھ روابط کے ذریعے بیرونی کھاتوں کو بہتر بنانے کے اقدامات کیے، جس سے صورتحال میں بہتری آئی۔

جون 2025 کے اختتام تک اسٹیٹ بینک کے ذخائر بڑھ کر تقریباً 14.51 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جو جون 2024 کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان نے متحدہ عرب امارات کے مالی ذخائر سے متعلق گمراہ کن تبصروں کو مسترد کردیا

اقتصادی ماہرین کے مطابق حالیہ پیش رفت کے بعد متحدہ عرب امارات کی ڈپازٹس کی واپسی پاکستان کی مالی ساکھ، پالیسی اعتبار اور بیرونی مالیاتی اعتماد کی بحالی کا اشارہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی مالی ذمہ داریاں بغیر کسی دباؤ کے پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

سرکاری موقف کے مطابق پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان برادرانہ تعلقات غیر متزلزل ہیں، اور یہ مالی اقدامات دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات اور اقتصادی اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟