مولانا فضل الرحمان کا حکومت کے خلاف علم بغاوت، آئندہ جمعے کو احتجاجی مظاہروں کا اعلان

پیر 6 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) نے حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے ہوئے آئندہ جمعے کو ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کردیا۔

جے یو آئی کی مرکزی مجلس شوریٰ کا 2 روزہ اجلاس پشاور میں منعقد ہوا جس میں ملکی و بین الاقوامی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمان نے آئندہ جمعے کو بڑے احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا۔

مزید پڑھیں: مولانا فضل الرحمان کے قومی و علاقائی معاملات میں کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، عالیہ کامران

مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ حالیہ پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ ہر فرد کو متاثر کرنے والا ہے اور عام آدمی کا سکون چھین لیا گیا ہے، موجود صورتحال پر عوام میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ گھریلو تشدد، ٹرانس جینڈر قوانین اور 18 سال سے کم عمر شادی پر پابندی سمیت دیگر خلاف شریعت قوانین کو ختم کیا جائے، جبکہ بیوی کو خاوند کی جائیداد میں 50 فیصد حصہ دینے سے متعلق قوانین بھی زیر غور ہیں۔

انہوں نے کہاکہ انگریز تو چلا گیا مگر اس کے قوانین اب بھی نافذ کیے جا رہے ہیں اور غیر اسلامی قوانین کا نفاذ جاری ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حکومتی اتحاد جعلی ہے اور پیپلز پارٹی کے سہارے کھڑا ہے، جس کے خلاف آواز اٹھانا ان کا حق ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ جے یو آئی اسلامی قوانین کے دفاع کے لیے ہر سطح پر کردار ادا کرے گی، تاہم ملک کی حساس صورتحال کے باعث فی الحال بڑے فیصلے مؤخر کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ عوام حکومت سے ناراض ہیں جبکہ امن و امان کی صورتحال ابتر ہو چکی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ عالمی سطح پر بھی صورتحال تشویشناک ہے اور امریکا اسرائیل کی پشت پر کھڑا ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ 12 اپریل کو مردان سے بڑے اجتماع کے ذریعے حکومت کے خلاف احتجاج کیا جائے گا۔

انہوں نے مطالبہ کیاکہ پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے تاکہ ملک کی مجموعی صورتحال پر اعتماد میں لیا جائے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ پاکستان کی سرحدی صورتحال بھی حساس ہے اور مختلف تجارتی راستوں پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز سے متعلق صورتحال اور تیل کی قیمتوں پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: موجودہ صورتحال میں پاکستان کے پاس ثالثی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں، مولانا فضل الرحمان

انہوں نے کہا کہ عالمی رہنما بھی کمزور ہوتے جا رہے ہیں جبکہ موجودہ حکمران خود اعتمادی کھو بیٹھے ہیں۔ ان کے مطابق 2026 تک سود کے خاتمے کے اہداف پر کوئی عملی پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔

مولانا فضل الرحمان نے انتخابی نظام پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہزاروں ووٹ لینے والا ہار جاتا ہے جبکہ چند سو ووٹ لینے والا جیت جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp