مولانا فضل الرحمان کے قومی و علاقائی معاملات میں کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، عالیہ کامران

جمعہ 3 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ملک میں جاری سیاسی سرگرمیوں کے درمیان مختلف سیاسی رہنماؤں کی جانب سے مولانا فضل الرحمان سے ملاقاتوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے، جس کے باعث ان کی رہائش گاہ ایک مرتبہ پھر اہم سیاسی مرکز کی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔

رہنما جے یو آئی عالیہ کامران کے مطابق مختلف سیاسی شخصیات مولانا فضل الرحمان سے ملاقاتیں کر رہی ہیں تاہم ملاقاتوں کے ایجنڈے سے متعلق تفصیلات محدود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں بھی اتنی ہی معلومات ہیں جتنی عمومی طور پر سامنے آرہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی شخصیت ملکی سیاست میں اثر و رسوخ رکھتی ہے اور قومی و علاقائی معاملات میں ان کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ پارلیمانی نشستیں زیادہ نہیں، لیکن سیاسی حیثیت اور اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے۔

عالیہ کامران کے مطابق موجودہ داخلی اور خارجی صورتحال، خطے میں جاری بین الاقوامی پیش رفت اور سیاسی تناؤ کے تناظر میں مولانا فضل الرحمان مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں اور معاملات کو بہتری اور استحکام کی طرف لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شہد کی مکھیوں کے چھتے سے متاثر جدید سولر پینل ڈیزائن تیار، بجلی کی پیداوار میں اضافے کا دعویٰ

پولیس تحقیقات کے بعد فیفا ورلڈ کپ سے نکالے گئے ریفری روب ڈیپرنک چل بسے

پاکستان کی سعودی عرب پر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت، مکمل حمایت کا اعادہ

ایران کو بڑی حد تک ’پتھر کے دور‘ میں پہنچا دیا، ٹرمپ کا دعویٰ

ایران میں فوجی تنصیبات پر مزید امریکی حملے، تہران کا خطے میں امریکی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

ویڈیو

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

وی ایکسکلوسیو: ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان اور قطر کی ثالثی اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اعزاز چوہدری

کالم / تجزیہ

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

بلوچستان: پری ٹیررازم ، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم

برداشت کی بھی حد ہوتی ہے