پاکستانی صنعتیں اس وقت ٹرپل شاک یعنی بجلی، گیس اور خام مال کی مہنگائی کی شدید زد میں ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے حالیہ تنازعات نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے جس کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور ایل این جی کی سپلائی متاثر ہوئی ہے اور اس کے براہِ راست اثرات پاکستان کی پیداواری لاگت پر پڑے ہیں۔ تاہم ان مشکل حالات کے باوجود ایک صنعت ایسی ہے جو ترقی کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان کی خواتین فری لانسنگ سے کتنے پیسے کما رہی ہیں؟
جہاں بڑھتی ہوئی توانائی قیمتوں کے باعث روایتی صنعتیں بند ہونے کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں، وہیں فری لانسنگ ایک ابھرتی ہوئی صنعت کے طور پر سامنے آئی ہے جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں یہ پاکستان کی معیشت کو سہارا دے سکتی ہے۔
پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن کے اعزازی صدر طفیل احمد خان کے مطابق فری لانسرز کی صنعت مسلسل ترقی کر رہی ہے کیونکہ اس کے لیے بنیادی طور پر صرف معیاری انٹرنیٹ درکار ہوتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پہلے پاکستانیوں کو سستی افرادی قوت سمجھا جاتا تھا مگر اب وہ باصلاحیت اور قابل افرادی قوت کے طور پر ابھر رہے ہیں اور جلد ہی فری لانسرز کی صنعت ملک کی بڑی صنعتوں میں شامل ہو سکتی ہے۔
معیشت کا سب سے کمزور مورچہ
پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی صنعت ٹیکسٹائل اس وقت شدید بحران کا شکار ہے۔ کپاس کی کم پیداوار، بلند شرحِ سود اور زیرو ریٹنگ سہولت کے خاتمے نے بڑے برانڈز کو بھی اپنے آپریشنز معطل کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
مزید پڑھیے: فری لانسنگ: ہزاروں پاکستانی طلبہ و طالبات کو تربیت دینے کا منصوبہ تیار
آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے مطابق اگر ایکسپورٹ ری فنڈز میں تاخیر اور لیکویڈیٹی کا مسئلہ حل نہ ہوا تو عالمی مارکیٹ میں آرڈرز برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔
تجارتی خسارے میں کمی
اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ (جولائی تا مارچ) میں تجارتی خسارہ کم ہو کر 27.80 ارب ڈالر سے 22.67 ارب ڈالر تک آ گیا ہے۔ مارچ کے دوران امپورٹ بل میں سالانہ بنیادوں پر 54 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
صنعت کار حاجی شہباز احمد کے مطابق صنعتوں کو بچانے کے لیے حکومت کو عالمی منڈیوں تک رسائی بڑھانے، توانائی کی سستی فراہمی یقینی بنانے اور فعال خارجہ پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی اخراجات میں کمی، ٹیکس نیٹ میں اضافہ، شرحِ سود کو متوازن کرنا اور ایکسپورٹ فیسیلی ٹیشن کے ذریعے کاروباری آسانیاں پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
صنعتوں کو بند ہونے کا خدشہ
تاجر رہنما عتیق میر کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں اگر پیٹرول کی قیمتیں کم نہ ہوئیں تو صنعتوں کا چلنا مشکل ہو جائے گا۔
ان کے مطابق مزدوروں کو فارغ کرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے، جس سے بے روزگاری میں اضافہ ہوگا۔
مزید پڑھیں: جرمنی کا فری لانس ویزا کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے؟
انہوں نے کہا کہ پہلے ہی بجلی اور گیس مہنگی تھی اور اب تیل کی قیمتوں میں اضافے نے صورتحال مزید خراب کر دی ہے۔
عتیق میر کا کہنا تھا کہ صنعت کو کسی نہ کسی طرح چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن جب یہ ممکن نہ رہے تو صنعتکاروں کے پاس تالے لگانے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔
اوورسیز پاکستانیوں کا کردار
اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز ایسوسی ایشن کے سابق نائب صدر محمد عدنان پراچہ کے مطابق معیشت کو سہارا دینے کے لیے صرف برآمدات پر انحصار کافی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے رئیل اسٹیٹ اور دیگر شعبوں میں پرکشش سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرے۔
یہ بھی پڑھیے: بجٹ 26-2025: فری لانسرز کے حکومت سے کیا مطالبات ہیں؟
ان کا کہنا ہے کہ اگر ترسیلاتِ زر کو درست سمت میں استعمال کیا جائے تو نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا بلکہ مقامی ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبہ بھی دوبارہ ترقی کر سکتا ہے۔












