چین نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے تناظر میں دہشتگردی کو دونوں ممالک کے تعلقات کا بنیادی مسئلہ قرار دیا ہے۔
ارومچی میں ہونے والے سہ فریقی مذاکرات کے بعد چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے واضح کیا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کی اصل وجہ محض سیاسی یا سفارتی اختلافات نہیں بلکہ دہشتگردی ہے۔
چین کے اس مؤقف نے پاکستان کے دیرینہ موقف کو تقویت دی ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی دونوں ممالک کے تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں پھیلتے دہشتگردی کے مرکز کے خلاف پاکستان مضبوط دیوار
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق، افغانستان میں اس وقت 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں جن میں تحریک طالبان پاکستان یعنی ٹی ٹی پی، داعش خراسان، القاعدہ اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ شامل ہیں۔
اندازوں کے مطابق ان گروہوں سے وابستہ 20 سے 23 ہزار جنگجو افغانستان میں موجود ہیں، جن میں 6 سے 7 ہزار جنگجو صرف ٹی ٹی پی کے ہیں۔
سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ رپورٹس، SIGAR اور شنگھائی تعاون تنظیم سمیت مختلف علاقائی تجزیوں میں بھی اس صورتحال کی تصدیق کی گئی ہے کہ یہ گروہ افغان سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں رکھتے ہیں۔
پاکستان پر اس کے اثرات واضح ہیں، جہاں صرف 2025 کے دوران ٹی ٹی پی کی جانب سے 600 سے زائد حملے کیے گئے، جبکہ 2021 سے اب تک 8 ہزار سے زائد پاکستانی شہری اور سیکیورٹی اہلکار ان حملوں میں جاں بحق یا زخمی ہو چکے ہیں۔
دہشت گردی کا دائرہ صرف پاکستان تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات خطے کے دیگر ممالک تک بھی پھیل رہے ہیں۔
تاجکستان میں چینی شہریوں پر حملے، جو افغان سرزمین سے منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے۔
مزید پڑھیں: افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواج پاکستان کو خراج تحسین
اسی طرح کابل میں چینی مفادات کو نشانہ بنانے کے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشتگردی بین الاقوامی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ بن چکی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر طالبان حکومت خطے میں استحکام اور عالمی سطح پر قبولیت چاہتی ہے تو اسے اپنی سرزمین پر موجود دہشتگرد نیٹ ورکس کا خاتمہ کرنا ہوگا۔
دہشگردوں کی پناہ گاہیں ختم کرنا ہوں گی اور خاص طور پر ٹی ٹی پی، داعش خراسان اور القاعدہ کے خلاف مؤثر کارروائی کرنا ہوگی۔














