امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا ہے کہ لبنان امریکی اور ایرانی جنگ بندی کے دائرہ کار میں شامل نہیں ہے، اور نہ ہی واشنگٹن یا اسرائیل نے اس پر کسی قسم کی رضامندی دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے لبنان کو جنگ بندی میں شامل کرنے کی بات کے بعد اسرائیل نے تقریباً 100 فضائی حملے کیے، جن میں سیکڑوں افراد ہلاک ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کے گرد امریکی فوج بدستور موجود رہے گی، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
وینس نے مذاکرات کے دوران ابھرتے ہوئے چند اختلافات پر بھی بات کی اور کہا کہ اگرچہ کچھ نکات پر تنازع موجود ہے، زیادہ تر معاملات پر فریقین کا اتفاق پایا جاتا ہے۔ انہوں نے ذکر کیا کہ مذاکرات کے دوران ایک 15 نکاتی منصوبہ یا 10 نکاتی منصوبہ گردش کر رہا ہے، اور 3 مسائل پر تنازع ہونے کے باوجود یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بنیادی معاملات پر بہت زیادہ ہم آہنگی موجود ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض اوقات مذاکرات کے دوران بیانات کی وضاحت مشکل ہو جاتی ہے اور کچھ باتیں سمجھ میں نہیں آتیں، لیکن یہ جزوی غلط فہمیاں ہیں اور بنیادی طور پر سب درست راستے پر ہیں۔ وینس نے جنگ بندی کے بعد ہونے والے حملوں کی نوعیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایرانی اور اسرائیلی اقدامات کے بعد خلیجی ممالک نے بھی ردعمل دیا، اور یہ جنگ بندی کے دوران معمولی پیچیدگیوں کی مثال ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران جنگ بندی پاکستانی سفارتی کامیابی، بھارت کی اسٹریٹجک ناکامی ہے، ششی تھرور کا اعتراف
وینس نے زور دیا کہ مقصد واضح ہے: بمباری کو روکنا اور تمام فریقوں کے لیے امن قائم رکھنا، اور انہوں نے کہا کہ ایران کو بھی مذاکرات کے تحت متعدد نکات قبول کرنے ہوں گے، لیکن امریکا کے پاس مضبوط موقف ہے اور وہ اس کا مؤثر استعمال کرے گا۔













