سندھ حکومت نے جمعرات کے روز گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ کی تحقیقات سے متعلق رپورٹ پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی ہے۔
رواں برس جنوری میں پیش آنے والے اس سانحے میں 70 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
یہ مہلک آگ 17 جنوری کی رات بھڑکی تھی جسے مکمل طور پر بجھانے میں تقریباً 2 دن لگے۔
آگ کے نتیجے میں گراؤنڈ سمیت 4 منزلہ عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور اس کے کئی حصے منہدم ہو گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ گل پلازہ: کئی گیٹ بند تھے، ریسکیو میں تاخیر ہوئی، امدادی کارکنوں کے جوڈیشل کمیشن میں بیانات
واقعے کے بعد تحقیقات کے لیے ایک رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا گیا تھا جس نے اپنی رپورٹ منگل کے روز حکومت سندھ کے حوالے کر دی۔
محکمہ داخلہ سندھ کے جاری کردہ بیان کے مطابق رپورٹ پر عملدرآمد کے لیے کمیٹی کی تشکیل کا فیصلہ صوبائی کابینہ کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں کمیشن کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں قائم کمیشن نے واقعے کی وجوہات کا تعین، ذمہ داران کی نشاندہی اور آئندہ کے لیے سفارشات پیش کیں۔
تشکیل دی گئی کمیٹی میں وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار بطور کنوینر جبکہ وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ اور وزیر صنعت اکرام اللہ دھاریجو بطور ارکان شامل ہوں گے۔
مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت اجلاس، گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی سے متعلق اہم فیصلے
مزید برآں ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ اقبال میمن کو کمیٹی کا رکن اور سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔
کمیٹی کو دی گئی ذمہ داریوں میں انکوائری رپورٹ کی روشنی میں جامع حکمت عملی تیار کرنا، خامیوں اور وجوہات کی بنیاد پر اصلاحی اقدامات تجویز کرنا، متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ یقینی بنانا اور ضرورت پڑنے پر ماہرین یا افسران کو شامل کرنے کا اختیار حاصل ہونا شامل ہے۔
کمیٹی رپورٹ پر عملدرآمد کی نگرانی بھی کرے گی اور باقاعدگی سے حکومت کو پیش رفت سے آگاہ کرے گی۔
مزید پڑھیں: گل پلازا کمیشن کا سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو نوٹس، قانونی وضاحت طلب کرلی
وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار کے مطابق سندھ حکومت ادارہ جاتی اصلاحات، حفاظتی معیار کے نفاذ اور ذمہ داران کے احتساب کے لیے پرعزم ہے تاکہ مستقبل میں گل پلازہ جیسے واقعات سے بچا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی کا قیام نہ صرف متاثرین کو انصاف فراہم کرنے کی جانب اہم قدم ہے بلکہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے حکومت کی سنجیدگی کا بھی عکاس ہے۔













