سانحہ گل پلازہ: کئی گیٹ بند تھے، ریسکیو میں تاخیر ہوئی، امدادی کارکنوں کے  جوڈیشل کمیشن میں بیانات

جمعرات 5 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی میں سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کے سامنے مختلف ایمبولینس ڈرائیوروں اور متعلقہ حکام نے اپنے بیانات ریکارڈ کرا دیے، جن میں ریسکیو آپریشن میں تاخیر، عمارت کے کئی گیٹ بند ہونے اور آگ کے تیزی سے پھیلنے جیسے اہم انکشافات سامنے آئے۔

چھیپا کے ڈرائیور رئیس نے کمیشن کو بتایا کہ وہ 11:15 بجے گل پلازہ پہنچے تو عمارت میں آگ لگی ہوئی تھی اور فرسٹ فلور پر بھی شعلے بھڑک رہے تھے۔ ان کے مطابق لوگ کھڑکیاں توڑ کر باہر نکلنے کی کوشش کر رہے تھے جبکہ پولیس اور رینجرز بھی موقع پر موجود تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ گل پلازہ: جوڈیشل کمیشن کے سامنے متاثرین کے بیانات، ریلیف پیکج کا اعلان

انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر آگ کی شدت کم تھی لیکن جب وہ زخمی کو اسپتال منتقل کر کے واپس آئے تو آگ زیادہ شدت اختیار کر چکی تھی اور رش بڑھنے سے ٹریفک کا نظام بھی درہم برہم ہو گیا تھا۔

چھیپا کے ایک اور ڈرائیور تنویر نے بتایا کہ وہ دوسرے روز صبح 10 بجے گل پلازہ پہنچے اور تیسرے فلور سے ایک لاش نکال کر اسپتال منتقل کی۔ ان کے مطابق لاش بری طرح جھلس چکی تھی اور شناخت کے قابل نہیں تھی جبکہ کھڑکیوں پر لگی گرل کو کاٹ کر لاش باہر نکالی گئی۔

انہوں نے کہا کہ دوسرے اور تیسرے فلور کی کھڑکیوں میں گرل لگی ہوئی تھی اور صبح کے وقت بھی عمارت کی تینوں منزلوں پر آگ موجود تھی۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ گل پلازہ کیس کی سماعت میں اہم پیشرفت، گواہوں کے بیانات قلمبند

ایمبولینس ڈرائیور اظہر نے بتایا کہ انہیں مسلسل لاشیں دی جا رہی تھیں جنہیں وہ اسپتال منتقل کر رہے تھے۔ کمیشن کے سوال پر انہوں نے کہا کہ جب وہ پہنچے تو اس سے پہلے ہی کافی ریسکیو کام ہو چکا تھا۔

چھیپا کے ڈرائیور ایاز نے کمیشن کو بتایا کہ مرکز سے انہیں 10:05 پر آگ لگنے کی اطلاع ملی اور وہ 15 منٹ میں گل پلازہ پہنچ گئے تھے۔ ان کے مطابق عمارت میں 26 میں سے صرف 2 گیٹ کھلے ہوئے تھے جبکہ آگ تیزی سے چاروں طرف پھیل چکی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ فائر بریگیڈ کی صرف ایک گاڑی موقع پر موجود تھی جس کا پانی بھی ختم ہو گیا تھا جبکہ دوسری گاڑی تقریباً ایک گھنٹے بعد پہنچی۔ ان کا کہنا تھا کہ دھواں بہت زیادہ تھا اور لوگ تیزی سے باہر نکل رہے تھے جبکہ ریسکیو اہلکار انہیں اندر جانے سے روک رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ گل پلازہ کے متاثرہ تاجروں کے لیے 300 عارضی دکانوں کا قیام

دیگر ڈرائیوروں کے بیانات میں بھی بتایا گیا کہ آگ کی شدت بہت زیادہ تھی، لوگ کھڑکیوں سے لائٹیں جلا کر مدد کے لیے اشارے کر رہے تھے اور کئی افراد کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔ ایک ڈرائیور کے مطابق اگر ریسکیو آپریشن بروقت شروع کیا جاتا تو بہت سے لوگوں کو بچایا جا سکتا تھا۔

جوڈیشل کمیشن کے روبرو کے ایم سی کے میونسپل کمشنر نے بھی سوالنامے کے جواب جمع کراتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ گل پلازہ میں ہونے والی تباہی میں کے ایم سی کی کوئی انتظامی غفلت نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے تحت فائر فائٹنگ کے ایم سی کی ذمہ داری تھی تاہم ایمرجنسی ریسکیو سروس ایکٹ 2023 کے بعد یہ ذمہ داری ریسکیو 1122 کو منتقل کر دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ گل پلازہ: جوڈیشل کمیشن نے سوال نامہ تیار کر لیا، لواحقین سے کیا سوال پوچھے گئے ہیں؟

میونسپل کمشنر کے مطابق کے ایم سی نے رضاکارانہ طور پر تقریباً 200 عمارتوں کا فائر سیفٹی آڈٹ کیا تھا اور اس کی رپورٹ 2024 میں کمشنر کو پیش کر دی گئی تھی، جبکہ گل پلازہ کے اطراف تجاوزات کے خاتمے کی ذمہ داری ٹی ایم سی صدر کی تھی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی کرین، ایکسکیویٹر اور دیگر بھاری مشینری تعینات کر دی گئی تھی اور فائر بریگیڈ کے ساتھ سٹی وارڈنز اور دیگر میونسپل عملہ بھی ریسکیو سرگرمیوں میں شریک تھا۔

جوڈیشل کمیشن نے سانحہ گل پلازہ سے متعلق بیانات اور شواہد کا جائزہ لینے کے بعد مزید سماعت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران کے خلاف ممکنہ جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں 3 ہفتوں کی توسیع، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکا نے اپنا بحری بیڑا ’جارج بش‘ بحیرہ ہند میں اتار دیا

بنگلہ دیشی بارڈر گارڈز کی اسمگلنگ کے خلاف بڑی کارروائی، 84 لاکھ ٹکا مالیت کی بھارتی ساڑیاں برآمد

سکھ رہنماؤں کو بھارتی دھمکیاں، سکھ فار جسٹس نے بھارتی سفارتکار کی مبینہ آڈیو لیک کردی

ویڈیو

سعودی عرب سے 3 بلین ڈالرز ملنے پر پاکستانی کیا کہتے ہیں؟

خیبر پختونخوا: دہشتگردی کے واقعات میں کمی، پشاور کے شہری کیا کہتے ہیں؟

پہلگام حملہ: کیا یہ خود ساختہ منصوبہ تھا؟

کالم / تجزیہ

عالمی دن پر کتاب سے مکالمہ

جنگ اور جنگ بندی کے مابین مرتب کیے 9 نتائج

لاہور پر ’مغل اعظم‘ کی یلغار